کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی فضیلت - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ عربی میں «زوج» واحد پر بھی بولا جاتا ہے جب وہ اپنی جنس کے ساتھ ہو
حدیث نمبر: 4643
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، يُحَدِّثُ عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَمِّ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : قَدِمْتُ الرَّبَذَةَ فَلَقِيتُ أَبَا ذَرٍّ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا ذَرٍّ ، مَا مَالُكَ ؟ قَالَ : مَالِي عَمَلِي . قُلْتُ : يَا أَبَا ذَرٍّ ، أَلا تُحَدِّثُنِي حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : بَلَى . سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا ثَلاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِِلا أَدْخَلَهُمَا اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِِيَّاهُمْ " . وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا مِنْ رَجُلٍ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ مِنْ مَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، إِِلا ابْتَدَرَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ " . قُلْتُ : وَمَا زَوْجَانِ مِنْ مَالِهِ ؟ قَالَ : عَبْدَانِ مِنْ رَقِيقِهِ ، فَرْسَانِ مِنْ خَيْلِهِ ، بَعِيرَانِ مِنْ إِِبِلِهِ .
صعصعہ بن معاویہ جو احنف بن قیس کے چچا ہیں وہ بیان کرتے ہیں: میں ربذہ آیا وہاں میری ملاقات سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے ہوئی میں نے دریافت کیا: اے ابوذر! آپ کا مال کیا ہے انہوں نے جواب دیا: میرا مال میرا عمل ہے میں نے کہا: اے ابوذر مجھے کوئی ایسی حدیث بیان نہیں کریں گے جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو انہوں نے جواب دیا: جی ہاں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” جن بھی دو مسلمانوں (یعنی مسلمان میاں بیوی) کے تین بچے فوت ہو جائیں جو ابھی بالغ نہ ہوئے ہوں اللہ تعالیٰ ان بچوں پر اپنے فضل کی وجہ سے ان دونوں (میاں بیوی) کو جنت میں داخل کر دے گا۔ “ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بھی ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” جو بھی شخص اپنے مال میں سے کسی چیز کا جوڑا اللہ کی بارگاہ میں خرچ کرتا ہے تو جنت کے دربان تیزی سے اس کی طرف لپکتے ہیں۔ “ (راوی بیان کرتے ہیں) میں نے دریافت کیا: مال میں سے کسی چیز کے جوڑے سے مراد کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ کہ اپنے غلاموں میں سے دو غلام آزاد کر دے یا اپنے گھوڑوں میں سے دو گھوڑے دیدے یا اپنے اونٹوں میں سے دو اونٹ دیدے۔