کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: جہاد کے فضائل کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ قیامت کے دن مجاہد کو اہل و عیال کا خیال رکھنے والے کے اجر کا کچھ حصہ دیا جائے گا
حدیث نمبر: 4634
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ الْمِصِّيصِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ قَعْنَبٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حُرْمَةُ نِسَاءِ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ كَأُمَّهَاتِهِمْ ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْقَاعِدِينَ يَخْلُفُ رَجُلا مِنَ الْمُجَاهِدِينَ إِِلا نُصِبَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيُقَالُ : يَا فُلانُ ، هَذَا فُلانٌ فَخُذْ مِنْ حَسَنَاتِهِ مَا شِئْتَ ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ : فَمَا ظَنُّكُمْ مَا أَرَى يَدَعُ مِنْ حَسَنَاتِهِ شَيْئًا " .
ابن بریدہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” مجاہدین کی خواتین کی حرمت پیچھے رہ جانے والوں کیلئے اسی طرح ہے جس طرح ان کی اپنی مائیں ہوتی ہیں اور پیچھے رہ جانے والوں میں سے جو بھی شخص کسی مجاہد کے ساتھ خیانت کرے گا تو اس شخص کو مجاہد کے سامنے رکھا جائے گا اور مجاہد سے کہا: جائے گا اے فلاں یہ فلاں شخص ہے تم اس کی نیکیوں میں سے جتنی چاہو حاصل کر لو۔ “ (راوی بیان کرتے ہیں) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کی طرف توجہ کی اور فرمایا: تمہار کیا گمان ہے میرا خیال ہے وہ اس کی نیکیوں میں سے کوئی بھی نیکی باقی نہیں رہنے دے گا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب السير / حدیث: 4634
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2255): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح رجاله ثقات رجال الصحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4615»