کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: جہاد کے فضائل کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ جو شخص مجاہد کو سامانِ جہاد مہیا کرے یا اس کے اہل و عیال کا خیال رکھے اسے بغیر کسی کمی کے مجاہد کے برابر اجر ملے گا
حدیث نمبر: 4633
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَوْ خَلْفَهُ فِي أَهْلِهِ كُتِبَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُ لا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ شَيْءٌ ، وَمَنْ فَطَّرَ صَائِمًا كُتِبَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ ، لا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ شَيْءٌ " .
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے شخص کو سامان فراہم کرتا ہے یا اس کی غیر موجودگی میں اس کے گھر والوں کا خیال رکھتا ہے تو اسے بھی مجاہد کی مانند اجر و ثواب ملتا ہے البتہ مجاہد کے اجر و ثواب میں کوئی کمی نہیں ہوتی اور اگر کوئی روزہ دار شخص کو افطاری کرواتا ہے تو اسے بھی روزہ دار کی مانند اجر ملتا ہے اور روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب السير / حدیث: 4633
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح رجاله ثقات رجال الصحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4614»