کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: جہاد کے فضائل کا بیان - ان عبادتوں کا ذکر جو جہاد کے برابر ہیں
حدیث نمبر: 4627
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنَا بِعَمَلٍ يَعْدِلُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ . قَالَ : " لا تُطِيقُونَهُ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنَا لَعَلَّنَا نُطِيقُهُ . قَالَ : " مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، كَمَثَلِ الْقَانِتِ بِآيَاتِ اللَّهِ ، لا يَفْتُرُ مِنْ صَوْمٍ وَلا صَدَقَةٍ ، حَتَّى يَرْجِعَ الْمُجَاهِدُ إِِلَى أَهْلِهِ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ ہمیں کسی ایسے عمل کے بارے میں بتائیں جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے برابر ہو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کی طاقت نہیں رکھ سکتے لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ ہمیں بتائیں تو سہی، ہو سکتا ہے ہم اس کی طاقت رکھتے ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال نوافل ادا کرنے والے ایسے روزہ دار کی مانند ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات کی تلاوت کرتا ہے اور وہ اپنے روزے میں اور صدقے میں کوئی وقفہ نہیں کرتا (اور وہ اتنی دیر تک مسلسل نوافل ادا کرتا رہتا ہے روزے رکھتا رہتا ہے) جب تک مجاہد اپنے گھر واپس نہیں آ جاتا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب السير / حدیث: 4627
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2896): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4608»