کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: جہاد کے فضائل کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ مرابط کے لیے اس کا اجر جاری رہتا ہے نہ کہ اس کا نیا عمل
حدیث نمبر: 4625
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ ، عَنْ سَلْمَانَ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ مَاتَ مُرَابِطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أُومِنَ عَذَابَ الْقَبْرِ ، وَنَمَا لَهُ أَجْرُهُ إِِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : النُّعْمَانُ هَذَا هُوَ : النُّعْمَانُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْغَسَّانِيُّ مِنْ أَهْلِ دِمَشْقَ .
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” جو شخص اللہ کی راہ میں پہرہ دیتے ہوئے انتقال کر جائے وہ قبر کے عذاب سے محفوظ رہتا ہے اور اس کا اجر قیامت کے دن تک بڑھتا رہتا ہے۔ “ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نعمان نامی راوی نعمان بن منذر غسانی ہے اور یہ اہل دمشق سے تعلق رکھتا ہے۔