کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: جہاد کے فضائل کا بیان - وضاحت کہ جو پاؤں اللہ کے راستے میں غبار آلود ہوں ان پر جہنم کی آگ حرام ہے
حدیث نمبر: 4604
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ حَرْمَلَةَ الْمَهْرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُصَبِّحِ الْمَقْرَائِيُّ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ بِأَرْضِ الرُّومِ فِي طَائِفَةٍ عَلَيْهَا مَالِكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخَثْعَمِيُّ ، إِِذْ مَرَّ مَالِكٌ بِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يَمْشِي يَقُودُ بَغْلا لَهُ ، فَقَالَ لَهُ مَالِكٌ : أَيْ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، ارْكَبْ فَقَدْ حَمَلَكَ اللَّهُ . فَقَالَ جَابِرٌ : أُصْلِحُ دَابَّتِي وَأَسْتَغْنِي عَنْ قَوْمِي ، وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ " . فَأَعْجَبَ مَالِكًا قَوْلُهُ ، فَسَارَ حَتَّى إِِذَا كَانَ حَيْثُ يُسْمِعُهُ الصَّوْتَ نَادَاهُ بِأَعْلَى صَوْتِهِ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ارْكَبْ ، فَقَدْ حَمَلَكَ اللَّهُ ، فَعَرَفَ جَابِرٌ الَّذِي أَرَادَ بِرَفْعِ صَوْتِهِ ، وَقَالَ : أُصْلِحُ دَابَّتِي وَأَسْتَغْنِي عَنْ قَوْمِي ، وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ " . فَوَثَبَ النَّاسُ عَنْ دَوَابِّهِمْ ، فَمَا رَأَيْنَا يَوْمًا أَكْثَرَ مَاشِيًا مِنْهُ . الْمُقْرِيُّ : قَرْيَةٌ بِدِمَشْقَ ، وَالْمَهْرِيُّ : سِكَّةٌ بِالْفُسْطَاطِ ، قَالَهُ الشَّيْخُ .
ابومصبح بیان کرتے ہیں: ہم لوگ روم کی سرزمین پر ایک گروہ کے ہمراہ سفر کر رہے تھے جن کے نگران مالک بن عبداللہ خثعمی تھے مالک کا گزر سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا جو اپنے خچر کو ساتھ لے کر پیدل چل رہے تھے مالک نے ان سے کہا: اے ابوعبداللہ آپ سوار ہو جائیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو سواری عطا کی ہے، تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اپنی سواری کو تیار رکھا ہے میں لوگوں سے بے نیاز ہوں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” جس شخص کے دونوں پاؤں اللہ کی راہ میں (جہاد کیلئے جاتے ہوئے) غبار آلود ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ اس شخص پر جہنم کو حرام کر دیتا ہے۔ “ (راوی بیان کرتے ہیں) تو مالک کو ان کی یہ بات بہت پسند آئی مالک وہاں سے آگے چلے گئے اور اتنی دور چلے گئے جہاں سے ان کی آواز سیدنا جابر رضی اللہ عنہ تک جا سکتی تھی وہاں پہنچ کر انہوں نے بلند آواز میں یہ کہا: اے ابوعبداللہ! سوار ہو جائیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو سواری عطا کی ہے تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کو یہ اندازہ ہو گیا کہ اس نے بلند آواز میں یہ بات کیوں کہی ہے انہوں نے فرمایا: میں نے اپنی سواری کو ٹھیک رکھا ہوا ہے مجھے اپنی قوم کی ضرورت بھی نہیں ہے (میں اس لیے پیدل چل رہا ہوں) کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” جس کے دونوں پاؤں اللہ کی راہ میں (جہاد پر جاتے ہوئے) غبار آلود ہو جائیں اللہ تعالیٰ اس شخص پر جہنم کو حرام قرار دے دیتا ہے۔ “ تو تمام لوگ اپنی سواریوں سے نیچے اتر گئے۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے اس دن سے زیادہ پیدل چلتے ہوئے لوگ کبھی نہیں دیکھے۔ مقری دمشق (کے قریب) ایک گاؤں ہے اور مہری فسطاط میں ایک کوچہ ہے یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب السير / حدیث: 4604
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2219). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4585»