کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: جہاد کے فضائل کا بیان - وضاحت کہ اللہ اپنے راستے میں ایک گھڑی کھڑا رہنے والے کو لیلۃ القدر (مسجد حرام میں) پانے سے بہتر اجر عطا فرماتا ہے
حدیث نمبر: 4603
أَخْبَرَنَا خَلادُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِيُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيِّ بِنَهَرِ سَابُسَ عَلَى الدِّجْلَةِ ، حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّرْقُفِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي أَبُو الأَسْوَدِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ كَانَ فِي الرِّبَاطِ فَفَزِعُوا إِِلَى السَّاحِلِ ، ثُمَّ قِيلَ : لا بَأْسَ ، فَانْصَرَفَ النَّاسُ وَأَبُو هُرَيْرَةَ وَاقِفٌ ، فَمَرَّ بِهِ إِِنْسَانٌ ، فَقَالَ : مَا يُوقِفُكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ؟ فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَوْقِفُ سَاعَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ قِيَامِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ عِنْدَ الْحَجَرِ الأَسْوَدِ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : سَمِعَ مُجَاهِدٌ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَحَادِيثَ مَعْلُومَةً بَيْنَ سَمَاعِهِ فِيهَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ ، وَقَدْ وَهِمَ مَنْ زَعَمَ أَنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ شَيْئًا ، لأَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ مَاتَ سَنَةَ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ فِي إِِمَارَةِ مُعَاوِيَةَ ، وَكَانَ مَوْلِدُ مُجَاهِدٍ سَنَةَ إِِحْدَى وَعِشْرِينَ فِي خِلافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، وَمَاتَ مُجَاهِدٌ سَنَةَ ثَلاثَ وَمِئَةٍ ، فَدُلَّ هَذَا عَلَى أَنَّ مُجَاهِدًا سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ کچھ لوگوں کے ساتھ پہرہ داری کر رہے تھے اسی دوران یہ بات کہی گئی کہ ساحل کی طرف سے خطرہ ہے پھر یہ بات بیان کی گئی کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے لوگ واپس چلے گئے لیکن سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وہیں ٹھہرے رہے ایک صاحب ان کے پاس سے گزرے انہوں نے دریافت کیا: اے ابوہریرہ! آپ کیوں ٹھہرے ہوئے ہیں؟ تو انہوں نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” اللہ کی راہ میں ایک گھڑی تک کھڑے رہنا شب قدر میں حجر اسود کے پاس نوافل ادا کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔ “ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) مجاہد نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے متعین احادیث کا سماع کیا ہے۔ عمر بن ذر نے ان سے احادیث کا سماع کیا تھا اور اس شخص کو غلط فہمی ہوئی ہے جس نے یہ گمان کیا کہ مجاہد نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کسی بھی حدیث کا سماع نہیں کیا ہے کیونکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا انتقال سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں اٹھاون ہجری میں ہوا تھا جب کہ مجاہد کی پیدائش سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں اکیس ہجری میں ہوئی تھی اور مجاہد کا انتقال ایک سو تین ہجری میں ہوا تو یہ چیز اس بات کی طرف رہنمائی کرتی ہے، مجاہد نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہوا ہے۔