کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: جہاد کے فضائل کا بیان - وضاحت کہ جہاد اللہ کی عبادت میں خلوت اختیار کرنے سے افضل ہے
حدیث نمبر: 4599
أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبِ الْبَلْخِيُّ بِبَغْدَادَ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " رَجُلٌ جَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِمَالِهِ وَنَفْسِهِ ، ثُمَّ مُؤْمِنٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَعْبُدُ اللَّهَ ، وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ " .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کون سا شخص زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص جو اللہ کی راہ میں اپنا مال و جان کے ہمراہ جہاد کرے پھر وہ مومن جو کسی گھاٹی میں رہ کر اللہ کی عبادت کرتا رہے اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھے۔