کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: جہاد کے فضائل کا بیان - وضاحت کہ اللہ کے نزدیک جہاد سب سے محبوب اعمال میں سے ہے
حدیث نمبر: 4594
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَاصِمٍ الأَنْصَارِيُّ بِدِمَشْقَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ ، قَالَ : جَلَسْتُ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : أَيُّكُمْ يَأْتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَسْأَلَهُ : أَيُّ الأَعْمَالِ أَحَبُّ إِِلَى اللَّهِ ؟ قَالَ : فَهِبْنَا أَنْ يَسْأَلَهُ مِنَّا أَحَدٌ ، قَالَ : فَأَرْسَلَ إِِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْرِدُنا رَجُلا رَجُلا ، يَتَخَطَّى غَيْرَنَا ، فَلَمَّا اجْتَمَعْنَا عِنْدَهُ أَوْمَأَ بَعْضُنَا إِِلَى بَعْضٍ لأَيِّ شَيْءٍ أَرْسَلَ إِِلَيْنَا ؟ فَفَزِعْنَا أَنْ يَكُونَ نَزَلَ فِينَا ، قَالَ : " فَقَرَأَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لا تَفْعَلُون سورة الصف آية 1 - 2 َ " . قَالَ : فَقَرَأَ مِنْ فَاتِحَتِهَا إِِلَى خَاتِمَتِهَا ، ثُمَّ قَرَأَ يَحْيَى مِنْ فَاتِحَتِها إِِلَى خَاتِمَتِهَا ، ثُمَّ قَرَأَ الأَوْزَاعِيُّ مِنْ فَاتِحَتِهَا إِِلَى خَاتِمَتِهَا ، وَقَرَأَهَا الْوَلِيدُ مِنْ فَاتِحَتِهَا إِِلَى خَاتِمَتِهَا .
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ کرام کے درمیان بیٹھا ہوا تھا میں نے کہا: آپ میں سے کون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جا کر آپ سے یہ سوال کرے گا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون سا عمل زیادہ پسندیدہ ہے؟ راوی بیان کرتے ہیں: تو ہم اس بات سے گھبرا گئے کہ ہم میں سے کوئی ایک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرے۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک، ایک کر کے بلایا آپ نے صرف ہمیں بلایا ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں اکٹھے ہو گئے تو ہم میں سے کسی ایک نے دوسرے کی طرف اشارہ کر کے دریافت کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کیوں بلایا ہے؟ ہمیں اس بات کا اندیشہ ہوا کہ کہیں ہمارے بارے میں (قرآن کا کوئی حکم) نازل نہ ہو گیا ہو۔ راوی بیان کرتے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے یہ آیت تلاوت کی۔ ” اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے اور وہ غالب اور حکمت والا ہے اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو، جو تم کرتے نہیں ہو۔ “ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع سے لے کر آخر تک یہ سورۃ ہمارے سامنے تلاوت کی۔ (راوی بیان کرتے ہیں) پھر یحیی نامی راوی نے بھی (یہ روایت نقل کرتے ہوئے) یہ سورۃ شروع سے لے کر آخر تک تلاوت کی۔ پھر اوزاعی نامی راوی نے بھی یہ سورۃ شروع سے لے کر آخر تک تلاوت کی۔ پھر ولید نامی راوی نے بھی یہ سورۃ شروع سے لے کر آخر تک تلاوت کی۔