کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: ائمہ کی اطاعت کا بیان - وضاحت کہ قریشی امراء کے اچھے احکام پر عمل کیا جائے اور اگر وہ ان کے خلاف عمل کریں تو اس کی پیروی نہ کی جائے
حدیث نمبر: 4585
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ إِِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ شَهْرٍ ، قَالَ : كَلِمَتَيْنِ سَمِعْتُهُمَا مَا أُحِبُّ أَنْ لِي بِوَاحِدَةٍ مِنْهُمَا الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، إِِحْدَاهُمَا مِنَ النَّجَاشِيِّ ، وَالأُخْرَى مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَّا الَّتِي سَمِعْتُهَا مِنَ النَّجَاشِيِّ : فَإِِنَّا كُنَّا عِنْدَهُ إِِذْ جَاءَهُ ابْنٌ لَهُ مِنَ الْكُتَّابِ ، فَعَرَضَ لَوْحَهُ ، قَالَ : وَكُنْتُ أَفْهَمُ بَعْضَ كَلامِهِمْ ، فَمَرَّ بِآيَةٍ ، فَضَحِكْتُ ، فَقَالَ : مَا الَّذِي أَضْحَكَكَ ؟ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لأُنْزِلَتْ مِنْ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ إِِنَّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ قَالَ : إِِنَّ اللَّعْنَةَ تَكُونُ فِي الأَرْضِ إِِذَا كَانَتْ إِِمَارَةُ الصِّبْيَانِ . وَالَّذِي سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " اسْمَعُوا مِنْ قُرَيْشٍ وَدَعُوا فِعْلَهُمْ " .
سیدنا عامر بن شہر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے دو کلمات سنے ہیں مجھے یہ بات پسند نہیں ہے ان میں سے کسی ایک کلمے کے عوض میں مجھے دنیا اور اس میں موجود سب چیزیں مل جائیں ان میں سے ایک نجاشی کی زبانی سنا ہے اور دوسرا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا ہے جہاں تک اس کلمے کا تعلق ہے جو میں نے نجاشی کی زبانی سنا ہے تو وہ یوں ہے میں نجاشی کے پاس بیٹھا ہوا تھا اسی دوران اس کا بیٹا مدرسے سے اس کے پاس آیا اس لڑکے۔ نے اپنی تختی اس کے سامنے پیش کی سیدنا عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں ان کا کچھ کلام سمجھ لیتا تھا جب وہ ایک آیت کے پاس سے گزرے تو مجھے ہنسی آ گئی نجاشی نے دریافت کیا: تم کس بات پر ہنسے ہو؟ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے عرش والی ذات کی طرف سے یہ بات نازل ہوئی ہے سیدنا عیسی بن مریم علیہ السلام نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: اس سرزمین پر لعنت ہوتی ہے جہاں بچوں کی حکومت ہو۔ (سیدنا عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” قریش کی فرمانبرداری کرو اور ان کے ذاتی عمل کو (ان کے حال پر) چھوڑ دو۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب السير / حدیث: 4585
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1577). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4566»