کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: ائمہ کی اطاعت کا بیان - حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں عام لفظ کے ایک تخصیص کا بیان
حدیث نمبر: 4564
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَاصِمٍ أَبُو طَالِبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ ، قَالَتْ : حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ " فَرَأَيْتُ أُسَامَةَ أَوْ بِلالا يَقُودُ بِخِطَامِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالآخَرَ رَافِعُ ثَوْبَهُ يَسْتُرُهُ بِهِ مِنَ الْحَرِّ ، حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَوَقَفَ النَّاسُ وَقَدْ جَعَلَ ثَوْبَهُ مِنْ تَحْتِ إِِبْطِهِ الأَيْمَنِ عَلَى عَاتِقِهِ الأَيْسَرِ ، قَالَ : فَرَأَيْتُ تَحْتَ غُضْرُوفِهِ الأَيْمَنِ كَهَيْئَةِ جُمْعٍ " . ثُمَّ ذَكَرَ قَوْلا كَثِيرًا ، وَكَانَ فِيمَا يَقُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِِنْ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ مُجَدَّعٌ أَسْوَدُ يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ ، فَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا . ثُمَّ قَالَ : هَلْ بَلَّغْتُ ؟ " .
سیدہ ام حصین رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حجتہ الوداع کیا میں نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی لگام تھام کر چل رہے تھے ان میں سے ایک نے لگام تھامی ہوئی تھی دوسرے نے اپنی چادر کو بلند کیا ہوا تھا تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دھوپ سے بچا کے رکھیں، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ کی رمی کر لی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے اور لوگ ٹھہرے رہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر اپنے بائیں کندھے پر رکھی ہوئی تھی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں بغل کے نیچے سے گزر رہی تھی۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں کندھے کے ابھار کے نیچے ایک ابھری ہوئی چیز دیکھی (شاید اس سے مراد مہر نبوت ہو) (راوی بیان کرتے ہیں) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی باتیں کیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات ارشاد فرمائی اس میں ایک بات یہ بھی تھی۔ ” اگر تم پر کسی ایسے حبشی کو امیر مقرر کر دیا جائے جس کے ناک، کان، کٹے ہوئے ہوں اور وہ تمہیں اللہ کی کتاب کے مطابق لے کر چلے، تو تم اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کرو۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب السير / حدیث: 4564
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «ظلال الجنة» (1062 - 1063). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4545»