کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: ائمہ کی اطاعت کا بیان - عام خطاب کی دوسری تخصیص کا بیان جو پہلے ذکر کی گئی
حدیث نمبر: 4558
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلْقَمَةَ بْنَ مَجَزَرٍ الْمُدْلِجِيَّ عَلَى بَعْثٍ أَنَا فِيهِمْ ، فَخَرَجْنَا حَتَّى إِِذَا كُنَّا عَلَى رَأْسِ غَزَاتِنَا أَوْ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ اسْتَأْذَنَتْهُ طَائِفَةٌ ، فَأَذِنَ لَهُمْ ، وَأَمَرَ عَلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ ، وَكَانَتْ فِيهِ دُعَابَةٌ ، فَكُنْتُ فِيمَنْ رَجَعَ مَعَهُ ، فَبَيْنَا نَحْنُ فِي الطَّرِيقِ نَزَلْنَا مَنْزِلا ، وَأَوْقَدَ الْقَوْمُ نَارًا يَصْطَلُونَ بِهَا أَوْ يَصْنَعُونَ عَلَيْهَا صَنِيعًا لَهُمْ ، إِِذْ قَالَ لَهُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ : أَلَيْسَ لِي السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ ؟ قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : فَأَنَا آمُرُكُمْ بِشَيْءٍ أَلا فَعَلْتُمُوهُ ؟ قَالُوا : بَلَى . قَالَ : فَإِِنِّي أَعَزِمُ عَلَيْكُمْ بِحَقِّي وَطَاعَتِي إِِلا تَوَاثَبْتُمْ فِي هَذِهِ النَّارِ . قَالَ : فَقَامَ نَاسٌ حَتَّى إِِذَا ظَنَّ أَنَّهُمْ وَاثِبُونَ فِيهَا ، قَالَ : أَمْسِكُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ ، إِِنَّمَا كُنْتُ أَضْحَكُ مَعَكُمْ ، فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَمَرَكُمْ بِمَعْصِيَةٍ فَلا تُطِيعُوهُ " .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علقمہ بن مجزر مدلجی رضی اللہ عنہ کو ایک مہم پر روانہ کیا جس میں، میں بھی شامل تھا ہم لوگ روانہ ہوئے یہاں تک کہ جب ہم جنگ کے مقام پر یا شاید راستے میں کسی جگہ پر پہنچے تو ایک گروہ نے ان سے اجازت مانگی۔ انہوں نے ان لوگوں کو اجازت دے دی اور سیدنا عبداللہ بن حذافہ سمہی رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر مقرر کر دیا وہ غزوہ بدر میں شرکت کرنے کا شرف رکھتے تھے ان کے مزاج میں کچھ شوخی تھی میں ان لوگوں میں شامل تھا جو ان کے ساتھ واپس چلے گئے تھے راستے میں ایک جگہ ہم نے پڑاؤ کیا لوگوں نے آگ جلائی اور اس کے ذریعے اپنے کام کاج کیے اسی دوران سیدنا عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا تم لوگوں پر میری فرمانبرداری لازم نہیں ہے ان لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں، تو انہوں نے کہا: میں تم لوگوں کو جس بات کا حکم دوں گا تم اس پر عمل کرو گے؟ لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں تو انہوں نے کہا: میں تم لوگوں کو اپنے حق اور اپنی فرمانبرداری کے حوالے سے تاکید کرتا ہوں کہ تم اس آگ میں کود جاؤ۔ راوی کہتے ہیں، تو کچھ لوگ کھڑے ہوئے یہاں تک کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ لگا کہ وہ اس میں کود جائیں گے تو انہوں نے کہا: تم لوگ رک جاؤ میں تو تمہارے ساتھ مذاق کر رہا تھا پھر جب لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو (حکمران یا امیر) تمہیں معصیت کا حکم دے تم اس کی فرمانبرداری نہ کرو۔
حدیث نمبر: 4559
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو هَانِئٍ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ الْجَنْبِيِّ ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ثَلاثَةٌ لا يُسْأَلُ عَنْهُمْ : رَجُلٌ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ ، وَعَصَى إِِمَامَهُ ، وَمَاتَ عَاصِيًا ، وَأَمَةٌ أَوْ عَبْدٌ أَبَقَ مِنْ سَيِّدِهِ فَمَاتَ ، وَامْرَأَةٌ غَابَ زَوْجُهَا وَقَدْ كَفَاهَا مُؤْنَةَ الدُّنْيَا فَخَانَتْهُ بَعْدَهُ ، وَثَلاثَةٌ لا يُسْأَلُ عَنْهُمْ : رَجُلٌ يُنَازِعُ اللَّهَ رِدَاءَهُ ، فَإِِنَّ رِدَاءَهُ الْكِبْرُ وَإِِزَارَهُ الْعِزُّ ، وَرَجُلٌ فِي شَكٍّ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ ، وَالْقَانِطُ مِنْ رَحمةِ اللَّهِ " .
سیدنا فضالہ بن عبیدالله رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” تین لوگ ایسے ہیں، جن کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا ایک وہ شخص (جو مسلمانوں کی) جماعت سے علیحدہ ہو جائے اور اپنے حاکم کی نافرمانی کرے اور نافرمان ہونے کے عالم میں ہی فوت ہو جائے ایک وہ کنیز جو اپنے آقا کو چھوڑ کر بھاگ جائے اور اسی حالت میں فوت ہو جائے ایک وہ عورت جس کا شوہر موجود نہ ہو وہ شوہر اس عورت کی دنیاوی ضروریات کو پورا کرتا ہو اور وہ عورت اس کی غیر موجودگی میں اس کے ساتھ خیانت کرے۔ تین لوگ ایسے ہیں جن کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا۔ ایک وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی چادر کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے مقابلہ کرتا ہے کیونکہ اس کی چادر کبریائی ہے اور اس کا ازار عزت ہے ایک وہ شخص جو اللہ کے حکم کے بارے میں شک کرتا ہے اور ایک وہ شخص جو اللہ کی رحمت سے مایوس ہو۔ “
حدیث نمبر: 4560
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرًا ، حَدَّثَهُ أَنَّ سُهَيْلَ بْنَ ذَكْوَانَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " آمُرُكُمْ بِثَلاثٍ ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ ثَلاثٍ ، آمُرُكُمْ أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ ، وَلا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَتَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلا تَتَفَرَّقُوا ، وَتُطِيعُوا لِمَنْ وَلاهُ اللَّهُ أَمْرَكُمْ ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ قِيلَ وَقَالَ ، وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ ، وَإِِضَاعَةِ الْمَالِ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، أَمْرٌ فَرْضٌ عَلَى الْمُخَاطَبِينَ فِي كُلِّ الأَحْوَالِ ، وَقَوْلُهُ : وَتَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا ، أَرَادَ بِهِ كِتَابَ اللَّهِ ، وَهُوَ فَرْضٌ عَلَى بَعْضِ الْمُخَاطَبِينَ الَّذِينَ تَقَعُ بِهِمُ الْحَاجَةُ إِِلَى اسْتِعْمَالِهِ فِي حَالٍ دُونَ حَالٍ ، وَتُطِيعُوا لِمَنْ وَلاهُ اللَّهُ أَمْرَكُمْ ، لَفْظُهُ عَامٌ لَهُ تَخْصِيصَانِ أَحَدُهُمَا : أَنْ يُؤْمَرَ الْمَرْءُ بِمَا لَهُ فِيهِ رِضًى ، وَالثَّانِي : إِِذَا أُمِرَ مَا اسْتَطَاعَ دُونَ مَا لا يَسْتَطِيعُ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” میں تمہیں تین باتوں کا حکم دیتا ہوں اور تمہیں تین چیزوں سے منع کرتا ہوں میں تمہیں اس بات کا حکم دیتا ہوں کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ تم سب لوگ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور فرقہ بندی کا شکار نہ ہو اور تم لوگ اس شخص کی اطاعت کرو جس کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے معاملے کا نگران (یعنی حاکم وقت) بنایا ہے اور میں تمہیں فضول بحث کرنے بکثرت (غیر ضروری) سوالات کرنے اور مال کو ضائع کرنے سے منع کرتا ہوں۔ “ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ” تم اللہ کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ “ یہ ایک ایسا فرض حکم ہے جو تمام مخاطب لوگوں پر ہر حالت میں فرض ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ” تم اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو۔ “ اللہ کی رسی سے مراد اللہ کی کتاب ہے اور یہ حکم بعض مخاطب افراد پر فرض ہے اس حکم پر عمل کرنے کی انہیں بعض صورتوں میں ضرورت پیش آتی ہے جو کسی حالت میں ہوتی ہے کسی حالت میں نہیں ہوتی اور ” جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے معاملے کا نگران بنایا ہو اس کی تم اطاعت کرو۔ “ یہاں الفاظ عام ہیں، لیکن اس میں دو قسم کی تخصیص پائی جاتی ہے ایک یہ کہ آدمی کو اس بات کا حکم دیا جائے جس میں (اللہ تعالیٰ کی) رضا مندی پائی جاتی ہو اور دوسرا یہ کہ آدمی کو وہ حکم دیا جائے جس کو پورا کرنے کی اس میں استطاعت ہو وہ حکم نہ دیا جائے جو اس کی استطاعت سے باہر ہو۔