کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: ائمہ کی بیعت کا بیان - اس بات کی وضاحت کہ امراء و خلفاء کی بیعت کے وقت ایک مسلمان پر کیا لازم آتا ہے
حدیث نمبر: 4555
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مِهْرَانَ السَّبَّاكُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي فُرَاتٌ الْقَزَّازُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِِنَّ بَنِي إِِسْرَائِيلَ كَانَتْ تَسُوسُهُمُ الأَنْبِيَاءُ ، كُلَّمَا مَاتَ نَبِيٌّ قَامَ نَبِيٌّ ، وَأَنَّهُ لَيْسَ بَعْدِي نَبِيٌّ " . فَقَالَ رَجُلٌ : مَا يَكُونُ بَعْدَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : خُلَفَاءُ وَيَكْثُرُونَ . قَالَ : فَكَيْفَ تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَدُّوا بَيْعَةَ الأَوَّلِ فَالأَوَّلِ ، وَأَدُّوا إِِلَيْهِمْ مَا لَهُمْ ، فَإِِنَّ اللَّهَ سَائِلُهُمْ عَنِ الَّذِي لَكُمْ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” بنی اسرائیل میں یکے بعد دیگرے انبیاء تشریف لاتے رہے جب کسی ایک نبی کا انتقال ہوتا تو دوسرے نبی تشریف لے آتے، لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ کے بعد کیا ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خلفاء ہوں گے اور (خلیفہ ہونے کے دعوے دار) بہت سے لوگ ہوں گے۔ ان صاحب نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! پھر آپ اس صورت حال میں ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کی بیعت کو ادا کرنا جس کی پہلے بیعت کی گئی ہو ان کا جو حق ہے اسے تم ادا کر دینا اور تمہارا جو حق ہے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ حساب لے گا۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب السير / حدیث: 4555
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (8/ 127). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4538»