کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: ائمہ کی بیعت کا بیان - امام کے لیے مستحب ہے کہ اگر وہ چاہے تو اپنی رعایا کی عورتوں سے بھی بیعت لے
حدیث نمبر: 4553
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ يُبَايِعْنَهُ ، فَقُلْنَ : نُبَايِعُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَى أَنْ لا نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَلا نَسْرِقَ ، وَلا نَزْنِيَ ، وَلا نَقْتُلَ أَوْلادَنَا ، وَلا نَأْتِيَ بِبُهْتَانٍ نَفْتَرِيهِ بَيْنَ أَيْدِينَا وَأَرْجُلِنَا ، وَلا نَعْصِيَكَ فِي مَعْرُوفٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ " . قَالَتْ : فَقُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَرْحَمُ بِنَا مِنْ أَنْفُسِنَا ، هَلُمَّ نُبَايِعُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِِنِّي لا أُصَافِحُ النِّسَاءَ ، إِِنَّمَا قَوْلِي لِمِائَةِ امْرَأَةٍ كَقَوْلِي لامْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ ، أَوْ مِثْلَ قَوْلِي لامْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ " .
سیدہ امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ خواتین کے ہمراہ حاضر ہوئی جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کرنی تھی ان خواتین نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم آپ کے دست اقدس پر اس بات کی بیعت کرتی ہیں کہ ہم کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہرائیں گی ہم چوری نہیں کریں گی ہم زنا نہیں کریں گی ہم اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی ہم اپنی طرف سے بنا کر کسی پر جھوٹا الزام نہیں لگائیں گی اور ہم نیکی کے کام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہیں کریں گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی استطاعت کے مطابق اور طاقت کے مطابق (اس پر عمل کرنا) وہ خاتون بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: اللہ اور اس کے رسول ہماری اپنی جان سے زیادہ ہمارے بارے میں رحم دل ہیں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ آگے ہاتھ بڑھائیے تاکہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں خواتین کے ساتھ مصافحہ نہیں کرتا میں ایک سو خواتین کے ساتھ جس طرح بات کرتا ہوں اسی طرح ایک خاتون کے ساتھ بات کرتا ہوں (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)