کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی رعایا کی بعض ضروریات پوری کرنے میں مصروف ہو جائے اگرچہ اس کے باعث نماز کو اول وقت سے مؤخر کرنا پڑے
حدیث نمبر: 4544
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " أُقِيمَتْ صَلاةُ الْعِشَاءِ ، فَقَامَ رَجُلٌ إِِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِِنَّ لِي إِِلَيْكَ حَاجَةً ، فَقَامَ بِنَاحِيَةٍ حَتَّى نَعَسَ الْقَوْمُ أَوْ بَعْضُ الْقَوْمِ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ، فَصَلُّوا ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَّهُمْ تَوَضَّئُوا " .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: (ایک مرتبہ) عشاء کی نماز قائم ہو گئی ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کھڑا ہوا اس نے عرض کی: مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کام ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (مسجد کے) ایک گوشے میں (اس شخص کے ہمراہ) کھڑے ہو گئے یہاں تک کہ لوگ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) کچھ لوگ اونگھنے لگے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی لوگوں نے بھی نماز ادا کی۔ راوی نے یہ بات ذکر نہیں کی کہ ان لوگوں نے ازسر نو وضو کیا تھا (یا وضو نہیں کیا تھا)۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب السير / حدیث: 4544
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (198). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4527»