کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے مستحب ہے کہ جب وفود اس کے پاس آئیں تو انہیں اسلام کے ارکان و اصولوں کی تعلیم دے
حدیث نمبر: 4541
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا غَيْرُ وَاحِدٍ مِمَّنْ لَقِيَ الْوَفْدَ ، وَذكَرَ أَبَا نَضْرَةَ أَنَّهُ حَدَّثَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّا حَيٌّ مِنْ رَبِيعَةَ ، وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ ، وَإِِنَّا لا نَقْدِرُ عَلَيْكَ إِِلا فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَدْعُو لَهُ مَنْ وَرَاءِنَا مِنْ قَوْمِنَا ، وَنَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ إِِذَا نَحْنُ أَخَذْنَا بِهِ أَوْ عَمِلْنَا . فَقَالَ : " آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ : أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَتُقِيمُوا الصَّلاةَ ، وَتُؤْتُوا الزَّكَاةَ ، وَتَصُومُوا رَمَضَانَ ، وَتُعْطُوا الْخُمُسَ مِنَ الْمَغْنَمِ ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ : عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالْمُزَفَّتِ ، وَالنَّقِيرِ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا عِلْمُكَ بِالنَّقِيرِ ؟ قَالَ : " الْجِذْعُ تَنْقُرُونَهُ وَتُلْقُونَ فِيهِ مِنَ الْقُطَيْعَاءِ ، أَوِ التَّمْرِ ، ثُمَّ تَصُبُّونَ عَلَيْهِ الْمَاءَ كَيْ يَغْلِيَ ، فَإِِذَا سَكَنَ شَرِبْتُمُوهُ ، فَعَسَى أَحَدُكُمْ أَنْ يَضْرِبَ ابْنَ عَمِّهِ بِالسَّيْفِ " ، قَالَ : وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ بِهِ ضَرْبَةٌ كَذَلِكَ ، قَالَ : كُنْتُ أُخَبِّؤُهَا حَيَاءً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا : فَفِيمَ تَأْمُرُنَا أَنْ نَشْرَبَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ : " اشْرَبُوا فِي أَسْقِيَةِ الأَدَمِ الَّتِي تُلاثُ عَلَى أَفْوَاهِهَا " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرْضُنَا كَثِيرُ الْجِرْذَانِ لا يَبْقَى بِهَا أَسْقِيَةُ الأَدَمِ . قَالَ : وَإِِنْ أَكَلَهَا الْجِرْذَانُ ، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاثًا ، ثُمَّ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ : " إِِنَّ فِيكَ لَخَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ : الْحِلْمُ ، وَالأَنَاةُ " .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: عبدالقیس قبیلے کا وفد جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم ربیعہ قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں ہمارے اور آپ کے درمیان مضر قبیلے کے کفار رہتے ہیں اس لیے ہم صرف حرمت والے مہینے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہو سکتے ہیں آپ ہمیں ایسی چیز کا حکم دیجئے جس کی ہم اپنے پیچھے موجود اپنی قوم کے افراد کو تعلیم دیں اور اس وقت جب ہم اس کو اختیار کریں اور اس پر عمل کریں۔ اس کے ذریعے جنت میں داخل ہو جائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے منع کرتا ہوں (میں تمہیں یہ حکم دیتا ہوں) تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو اور مال غنیمت میں سے خمس ادا کرو اور میں چار چیزوں سے تمہیں منع کرتا ہوں دباء، حنتم، مزفت، نقیر۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! نقیر کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھجور کے تنے کو سوراخ کر کے اس میں تم لوگ چھوہارے یا کھجور ڈال دیتے ہو پھر تم اس پر پانی انڈیل دیتے ہو تکہ اس میں جوش آ جائے پھر جب وہ پرسکون ہو جائے تو تم اسے پی لیتے ہو تو ہو سکتا ہے (اسے پینے کے بعد نشے کی حالت میں) کوئی شخص اپنے چچازاد کو اپنی تلوار کے ذریعے قتل کر دے۔ راوی بیان کرتے ہیں: حاضرین میں سے ایک شخص نے ایسا کیا ہوا تھا وہ صاحب کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حیا کرتے ہوئے اس بات کو چھپایا ہوا تھا۔ لوگوں نے عرض کی: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کیا حکم دیتے ہیں اللہ کے نبی ہم کیا پئیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ چمڑے سے بنے ہوئے مشکیزے میں پانی پیو جس کے منہ کو بند کیا گیا ہو۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہماری سرزمین پر چوہے بہت زیادہ ہیں وہ چمڑے کی کسی چیز کو باقی نہیں رہنے دیتے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ اسے چوہے نے کاٹ لیا ہو یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ یا تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالقیس قبیلے کے سردار سے فرمایا: تمہارے اندر دو خصوصیات ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، بردباری اور مروت۔