کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے مستحب ہے کہ وہ رعایا کی دعوت قبول کرنے میں تکبر نہ کرے، چاہے دعوت دینے والا کوئی معمولی آدمی ہی کیوں نہ ہو
حدیث نمبر: 4539
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : إِِنَّ خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَهُ ، قَالَ أَنَسٌ : فَذَهَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَرَّبَ إِِلَيْهِ خُبْزًا مِنْ شَعِيرٍ ، وَمَرَقًا فِيهِ دُبَّاءٌ وَقَدِيدٌ ، قَالَ أَنَسٌ : فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوَالَيِ الْقَصْعَةِ " . قَالَ : فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمَ .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک درزی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا تھا سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیا اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ” جو “ کی بنی ہوئی روٹی اور شوربا پیش کیا جس میں کدو تھا اور گوشت تھا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیالے میں کدو تلاش کر رہے تھے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اس دن کے بعد میں ہمیشہ کدو کو پسند کرتا ہوں۔