کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے مستحب ہے کہ اگر رعایا میں سے کوئی اس کے ساتھ بدتمیزی کرے تو وہ اسے سزا دینے سے درگزر کرے
حدیث نمبر: 4537
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سِنَانَ بْنِ أَبِي سِنَانَ الدُّؤَلِيِّ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةً قَبْلَ نَجْدٍ ، فَأَدْرَكَتْهُمُ الْقَائِلَةُ يَوْمًا فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الْعِضَاهِ يَسْتَظِلُّونَ فِي الشَّجَرِ ، وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ شَجَرَةٍ ، فَعَلَّقَ سَيْفَهُ بِهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ عِنْدَهُ : " إِِنَّ هَذَا اخْتَرَطَ سَيْفِي وَأَنَا نَائِمٌ فَاسْتَيْقَظْتُ ، وَهُوَ فِي يَدِهِ ، فَقَالَ لِي : مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي ؟ فَقُلْتُ لَهُ : اللَّهُ . قَالَ : مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي ؟ قُلْتُ : اللَّهُ . فَشَامَ السَّيْفَ ، وَجَلَسَ فَهُوَ هَذَا جَالِسٌ ، ثُمَّ لَمْ يُعَاقِبْهُ " .
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نجد کی سمت ایک غزوے میں شرکت کی ایک دن انہیں دوپہر کے آرام کا وقت ایک ایسی وادی میں آیا جہاں درخت بہت زیادہ تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پڑاؤ کیا لوگ مختلف درختوں کے سائے حاصل کرنے کے لیے ادھر اُدھر پھیل گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک درخت کے نیچے آرام فرما ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار اس درخت کے ساتھ لٹکا دی (بعد میں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس موجود شخص کے بارے میں بتایا کہ اس شخص نے مجھ پر تلوار سونت لی تھی میں اس وقت سویا ہوا تھا میں بیدار ہوا تو تلوار اس کے ہاتھ میں تھی اس نے مجھ سے دریافت کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ سے کون بچائے گا؟ میں نے اسے جواب دیا: اللہ تعالیٰ۔ اس نے پھر دریافت کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ سے کون بچائے گا؟ میں نے جواب دیا۔ اللہ تعالیٰ، تو اس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی اور یہ بیٹھ گیا اب یہ بیٹھا ہوا ہے (راوی کہتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی سزا نہیں دی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب السير / حدیث: 4537
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2489). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4520»