کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے مستحب ہے کہ وہ رعایا کو وہ چیز عطا کرے جس سے وہ اس کی طرف سے برکت کی امید رکھتے ہوں
حدیث نمبر: 4534
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ يُوسُفَ بِدِمَشْقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، قَالَ : عَقَلْتُ مَجَّةً مَجَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِي مِنْ دَلْوٍ مُعَلَّقَةٍ فِي دَارِنَا ، قَالَ مَحْمُودٌ : فَحَدَّثَنِي عِتْبَانُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّ بَصَرِي قَدْ سَاءَ ، وَإِِنَّ الأَمْطَارَ إِِذَا اشْتَدَّتْ سَالَ الْوَادِي فَحَالَ بَيْنِي وَبَيْنَ الصَّلاةِ فِي مَسْجِدِ قَوْمِي ، فَلَوْ صَلَّيْتُ فِي مَنْزِلِي مَكَانًا أَتَّخِذُهُ مُصَلًّى ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ " . قَالَ : فَغَدَا عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ ، فَاسْتَأْذَنَا ، فَأَذِنْتُ لَهُمَا ، قَالَ : فَمَا جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَالَ : " أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ فِي مَنْزِلِكَ ؟ " فَأَشَرْتُ لَهُ إِِلَى نَاحِيَةٍ ، فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَفْنَا خَلْفَهُ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، وَحَبَسْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خَزِيرَةٍ صَنَعْنَاهَا لَهُ .
سیدنا محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے یہ بات یاد ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے پر کلی کی تھی اس ڈول میں سے پانی لے کر جو ہمارے گھر میں لٹکا ہوا تھا۔ سیدنا محمود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ بات بتائی ہے میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میری نظر کمزور ہو گئی ہے جب بارشیں زیادہ ہو جائیں تو نشیبی علاقے میں پانی اکٹھا ہو جاتا ہے جو میرے اور میرے محلے کی مسجد کے درمیان رکاوٹ بن جاتا ہے تو آپ اگر میرے گھر میں کسی جگہ نماز ادا کر لیں تو میں اس جگہ کو جائے نماز بنا لوں گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: اگلے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے ان دونوں نے اندر آنے کی اجازت طلب کی میں نے ان دونوں کی خدمت میں اجازت پیش کی۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما نہیں ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے یہ دریافت کیا: تم کہاں یہ پسند کرتے ہو کہ میں تمہارے گھر میں اس جگہ نماز ادا کروں؟ میں نے گھر کے ایک گوشے کی طرف اشارہ کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک صف بنائی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعات ادا کی پھر ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خزیرہ کھانے کے لیے روک لیا جو ہم نے آپ کے لیے تیار کیا تھا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب السير / حدیث: 4534
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (223). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4517»