کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنی یا صدقہ کے اونٹوں کی مرمت اور اصلاح کا کام خود کرے
حدیث نمبر: 4532
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُهَيْرٍ بِالأُبُلَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : لَمَّا وَلَدَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ ، قَالَتْ : يَا أَنَسُ ، انْظُرْ هَذَا الْغُلامَ فَلا يُصِيبَنَّ شَيْئًا حَتَّى تَغْدُوَ بِهِ إِِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُحَنِّكُهُ . قَالَ : فَغَدَوْتُ بِهِ فَإِِذَا هُوَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَائِطِ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ ، وَهُوَ يَسِمُ الظَّهْرَ الَّذِي قَدِمَ عَلَيْهِ فِي الْفَتْحِ " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے بچے کو جنم دیا تو انہوں نے فرمایا: اے انس! تم اس بچے کا دھیان رکھنا یہ کوئی چیز نہ کھائے جب تک یہ پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے گٹھی نہیں دیتے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اس بچے کو لے کر روانہ ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک باغ میں موجود تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر اوڑھی ہوئی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان اونٹوں پر نشان لگا رہے تھے جو فتح کے نتیجے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے۔