کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے مستحب ہے کہ رعایا کی بہتری کے لیے جن محنتوں میں بھلائی ہو ان میں خود حصہ لے
حدیث نمبر: 4531
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : ذَهَبْتُ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الأَنْصَارِيِّ حِينَ وُلِدَ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَبَاءَةٍ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهْنَأُ بَعِيرًا لَهُ ، فَقَالَ : " هَلْ مَعَكَ تَمْرٌ ؟ " فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَنَاوَلْتُهُ تَمَرَاتٍ ، فَأَلْقَاهُنَّ فِي فِيهِ فَلاكَهُنَّ ، ثُمَّ فَغَرَفَا الصَّبِيِّ فَمَجَّهُ فِي فِيهِ ، فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُهُ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حِبُّ الأَنْصَارِ التَّمْرُ " . وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کے ہاں صاحب زادے عبداللہ کی پیدائش پر اسے ساتھ لے کر ایک چادر میں لپیٹ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت (صدقے کے) اونٹوں پر نشان لگا رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس کھجور ہے میں نے جواب دیا: جی ہاں میں نے کچھ کھجوریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے منہ میں ڈالا انہیں چبایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بچے کے منہ میں ڈال دی بچے نے اسے چوسنا شروع کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انصار کھجوروں سے محبت کرتے ہیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کا نام عبداللہ تجویز کیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب السير / حدیث: 4531
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4514»