کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنی عزت و آبرو رعایا کے مفاد میں قربان کرے اگر اس میں ان کے دین و دنیا کی اصلاح ہو
حدیث نمبر: 4530
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ ، قَالَ الْحَجَّاجُ بْنُ عِلاطٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّ لِي بِمَكَّةَ مَالا ، وَإِِنَّ لِي بِهَا أَهْلا ، وَإِِنِّي أُرِيدُ أَنْ آتِيَهُمْ ، فَأَنَا فِي حَلٍّ إِِنْ أَنَا نِلْتُ مِنْكَ أَوْ قُلْتُ شَيْئًا . فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُولَ مَا شَاءَ ، قَالَ : فَأَتَى امْرَأَتَهُ حِينَ قَدِمَ ، فَقَالَ : اجْمَعِي لِي مَا كَانَ عِنْدَكَ ، فَإِِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَشْتَرِيَ مِنْ غَنَائِمِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ ، فَإِِنَّهُمْ قَدِ اسْتُبِيحُوا وَأُصِيبَتْ أَمْوَالُهُمْ ، قَالَ : وَفَشَا ذَلِكَ بِمَكَّةَ ، فَأَوْجَعَ الْمُسْلِمِينَ ، وَأَظْهَرَ الْمُشْرِكُونَ فَرَحًا وَسُرُورًا ، وَبَلَغَ الْخَبَرُ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَعَقَرَ فِي مَجْلِسِهِ ، وَجَعَلَ لا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَقُومَ ، قَالَ مَعْمَرٌ : فَأَخْبَرَنِي الْجَزَرِيُّ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، قَالَ : فَأَخَذَ الْعَبَّاسُ ابْنًا لَهُ يُقَالُ لَهُ : قُثَمٌ ، وَكَانَ يُشْبِهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَلْقَى ، فَوَضَعَهُ عَلَى صَدْرِهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : حِبِّي قُثَمْ شَبِيهُ ذِي الأَنْفِ الأَشَمْ نَبِيُّ رَبِّ ذِي النِّعَمْ بِرَغْمِ أَنْفِ مَنْ رَغَمَ قَالَ مَعْمَرٌ : قَالَ ثَابِتٌ : عَنْ أَنَسٍ ، ثُمَّ أَرْسَلَ غُلامًا لَهُ إِِلَى الْحَجَّاجِ بْنِ عِلاطٍ ، فَقَالَ : وَيْلَكَ مَا جِئْتَ بِهِ ، وَمَاذَا تَقُولُ ؟ فَمَا وَعَدَ اللَّهُ خَيْرًا مِمَّا جِئْتَ بِهِ ، قَالَ الْحَجَّاجُ لِغُلامِهِ : أَقْرِئْ أَبَا الْفَضْلِ السَّلامَ ، وَقُلْ لَهُ : فَلْيُخْلِ لِي بَعْضَ بُيُوتِهِ لآتِيَهُ ، فَإِِنَّ الْخَبَرَ عَلَى مَا يَسُرُّهُ ، فَجَاءَ غُلامُهُ ، فَلَمَّا بَلَغَ الْبَابَ ، قَالَ : أَبْشِرْ أَبَا الْفَضْلِ فَوَثَبَ الْعَبَّاسُ فَرَحًا حَتَّى قَبَّلَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ، فَأَخْبَرَهُ مَا قَالَ الْحَجَّاجُ ، فَأَعْتَقَهُ ، ثُمَّ جَاءَ الْحَجَّاجُ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِ " افْتَتَحَ خَيْبَرَ وَغَنَمَ أَمْوَالَهُمْ ، وَجَرَتْ سِهَامُ اللَّهِ فِي أَمْوَالِهِمْ ، وَاصْطَفَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ ، واتَّخَذَهَا لِنَفْسِهِ ، وَخَيَّرَهَا بَيْنَ أَنْ يُعْتِقَهَا فَتَكُونُ زَوْجَتُهُ أَوْ تَلْحَقَ بِأَهْلِهَا ، فَاخْتَارَتْ أَنْ يُعْتِقَهَا وَتَكُونُ زَوْجَتُهُ " . وَلَكِنِّي جِئْتُ لِمَالٍ كَانَ لِي هَا هُنَا أَرَدْتُ أَنْ أَجْمَعَهُ وأَذْهَبَ بِهِ ، فَاسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنَ لِي أَنْ أَقُولَ مَا شِئْتُ ، فَاخْفِ عَنِّي ثَلاثًا ، ثُمَّ اذْكُرْ مَا بَدَا لَكَ ، قَالَ : فَجَمَعَتِ امْرَأَتُهُ مَا كَانَ عِنْدَهَا مِنْ حُلِيٍّ وَمَتَاعٍ ، جَمَعَتْهُ فَدَفَعْتُهُ إِِلَيْهِ ، ثُمَّ اسْتَمَرَّ بِهِ ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ثَلاثٍ أَتَى الْعَبَّاسُ امْرَأَةَ الْحَجَّاجِ ، فَقَالَ : مَا فَعَلَ زَوْجُكِ ؟ فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ قَدْ ذَهَبَ ، وَقَالَتْ : لا يُخْزِنَكَ اللَّهُ أَبَا الْفَضْلِ ، لَقَدْ شَقَّ عَلَيْنَا الَّذِي بَلَغَكَ . قَالَ : أَجَلْ لا يُحْزِنَنِي اللَّهُ ، وَلَمْ يَكُنْ بِحَمْدِ اللَّهِ إِِلا مَا أَحْبَبْنَاهُ ، وَقَدْ أَخْبَرَنِي الْحَجَّاجُ ، أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَتَحَ خَيْبَرَ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَجَرَتْ فِيهَا سِهَامُ اللَّهِ ، وَاصْطَفَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ لِنَفْسِهِ ، فَإِِنْ كَانَ لَكِ حَاجَةٌ فِي زَوْجِكِ فَالْحَقِي بِهِ . قَالَتْ : أَظُنُّكَ وَاللَّهِ صَادِقًا . قَالَ : فَإِِنِّي صَادِقٌ ، وَالأَمْرُ عَلَى مَا أَخْبَرْتُكِ . قَالَ : ثُمَّ ذَهَبَ حَتَّى أَتَى مَجَالِسَ قُرَيْشٍ ، وَهُمْ يَقُولُونَ : لا يُصِيبُكَ إِِلا خَيْرٌ أَبَا الْفَضْلِ . قَالَ : لَمْ يُصِبْنِي إِِلا خَيْرٌ بِحَمْدِ اللَّهِ ، وَقَدْ أَخْبَرَنِي الْحَجَّاجُ ، أَنَّ خَيْبَرَ فَتَحَهَا اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَجَرَتْ فِيهَا سِهَامُ اللَّهِ ، وَاصْطَفَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ لِنَفْسِهِ ، وَقَدْ سَأَلَنِي أَنْ أُخْفِيَ عَنْهُ ثَلاثًا ، وَإِِنَّمَا جَاءَ لِيَأْخُذَ مَا كَانَ لَهُ ثُمَّ يَذْهَبَ ، قَالَ : فَرَدَّ اللَّهُ الْكَآبَةَ الَّتِي كَانَتْ بِالْمُسْلِمِينَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ ، وَخَرَجَ الْمُسْلِمُونَ مَنْ كَانَ دَخَلَ بَيْتَهُ مُكْتَئِبًا حَتَّى أَتَوْا الْعَبَّاسَ ، فَأَخْبَرَهُمُ الْخَبَرَ ، فَسُرَّ الْمُسْلِمُونَ ، وَرَدَّ اللَّهُ مَا كَانَ مِنْ كَآبَةٍ أَوْ غَيْظٍ ، أَوْ خِزْيٍ عَلَى الْمُشْرِكِينَ .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کر لیا تو سیدنا حجاج بن علاط رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں میری زمین ہے اور میرے بال بچے بھی وہاں ہیں میں یہ چاہتا ہوں کہ میں ان کے پاس چلا جاؤں آپ مجھے اجازت دیجئے کہ میں (جھوٹ موٹ کے طور پر) آپ کے خلاف بات کروں یا کوئی بات کہوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی کہ وہ جو چاہیں کہہ دیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب وہ اپنی بیوی کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: تمہارے پاس جو کچھ بھی ہے وہ اکٹھا کر کے مجھے دو میں یہ چاہتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب سے بکریاں خرید لوں کیونکہ انہیں اس کی ضرورت ہے اور ان کے اموال تباہ ہو گئے ہیں راوی بیان کرتے ہیں: یہ بات مکہ میں پھیل گئی اس سے مسلمانوں کو بہت افسوس ہوا اور مشرکین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی یہ اطلاع سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ تک بھی پہنچی تو وہ جہاں تھے وہیں بیٹھے رہ گئے ان سے کھڑا بھی نہ ہوا گیا۔ مقسم نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے صاحبزادے قثم کو لیا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشابہت رکھتے تھے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے ساتھ لٹا لیا انہیں اپنے سینے پر رکھا اور یہ کہا:۔ ” میرا محبوب قثم جو مرنے والی شخصیت (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے جو اس پروردگار کے بھیجے ہوئے نبی ہیں جو نعمتیں عطا کرتا ہے خواہ کسی کو یہ کتنا ہی برا لگے۔ “ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پھر انہوں نے اپنے لڑکے کو سیدنا حجاج بن علاط رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور کہا: تمہارا ستیاناس ہو تم کیا اطلاع لے کر آئے ہو اور کیا کہتے پھر رہے ہو تم جو اطلاع لے کر آئے ہو اللہ تعالیٰ نے اس شکل میں بھلائی کا وعدہ نہیں کیا تھا۔ تو حجاج نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے غلام سے کہا: تم سیدنا ابوالفضل رضی اللہ عنہ (یعنی سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ) کو میری طرف سے سلام کہہ دینا اور ان سے یہ کہنا کہ وہ اپنے گھر میں مجھ سے تنہائی میں ملنے کا موقع دیں انہیں ایسی اطلاع ملے گی جو انہیں خوش کر دے گی۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا غلام آیا اور جب وہ دروازے پر پہنچا تو بولا: اے ابوالفضل آپ خوشخبری قبول کیجئے، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ انتہائی خوش ہوئے یہاں تک کہ انہوں نے اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اس نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو بتایا جو حجاج نے اسے بتایا تھا تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اس غلام کو آزاد کر دیا پھر حجاج آئے انہوں نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو صورت حال کے بارے میں بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو فتح کر لیا ہے اور ان لوگوں کا مال غنیمت حاصل کر لیا ہے اور ان کے اموال میں اللہ تعالیٰ کا حصہ بھی جاری ہوا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو اپنے لیے مخصوص کر لیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو یہ اختیار دیا ہے اگر وہ چاہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں آزاد کر کے ان کے ساتھ شادی کر لیں ورنہ وہ اپنے گھر والوں کے پاس واپس چلی جائے تو اس خاتون نے اس بات کو اختیار کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے آزاد کر کے اس کے ساتھ شادی کر لیں۔ (سیدنا حجاج نے بتایا) میں اپنے مال کی وجہ سے یہاں آیا ہوں جو یہاں ہے میں یہ چاہتا ہوں کہ اسے اکٹھا کروں اور اسے ساتھ لے کر چلا جاؤں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کی اجازت مانگی تو آپ نے مجھے اجازت دے دی کہ میں جو چاہوں وہ بیان کر دوں آپ تین دن تک اس بات کو خفیہ رکھیں اس کے بعد آپ جیسے مناسب سمجھیں اس کا ذکر کر دیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: ان کی اہلیہ نے جو کچھ موجود تھا اس سب کو اکٹھا کیا جس کا تعلق زیورات اور ساز و سامان سے تھا اس خاتون نے اسے اکٹھا کیا اور ان کے سپرد کیا، تو وہ اس سامان کو ساتھ لے کر روانہ ہو گئے۔ تین دن گزرنے کے بعد سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سیدنا حجاج رضی اللہ عنہ کی اہلیہ کے پاس آئے اور دریافت کیا: تمہارے شوہر کا کیا حال ہے اس خاتون نے انہیں بتایا وہ تو چلے گئے ہیں اس خاتون نے کہا: اے ابوالفضل اللہ تعالیٰ آپ کو رسوائی سے محفوظ رکھے آپ تک جو اطلاع پہنچی ہے وہ ہمیں بہت گراں گزری ہے، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی ہاں اللہ تعالیٰ مجھے رسوائی سے محفوظ رکھے لیکن اللہ کے فضل سے جو ہم پسند کرتے ہیں وہی ہو گا۔ حجاج نے مجھے بتا دیا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو فتح کر لیا ہے اور خیبر میں اللہ تعالیٰ کا حصہ بھی مقرر ہو گیا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو اپنی ذات کے لیے مخصوص کر لیا ہے اور اگر تم اپنے شوہر کے پاس جانا چاہتی ہو تو اس کے پاس چلی جاؤ۔ اس خاتون نے کہا: اللہ کی قسم! آپ کے بارے میں میرا یہی گمان ہے آپ سچ بول رہے ہیں، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں سچ ہی بول رہا ہوں اور صورت حال اسی طرح ہے جس طرح میں نے تمہیں بتائی ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ تو وہاں سے چلے گئے اور قریش کی محفل میں تشریف لے آئے وہ لوگ یہ کہہ رہے تھے اے ابوالفضل آپ کو تو ہمیشہ بھلائی ہی لاحق ہوئی ہے تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اب بھی اللہ کے فضل سے مجھے صرف بھلائی ہی لاحق ہوئی ہے۔ حجاج نے مجھے یہ بات بتائی ہے اللہ تعالیٰ نے خیبر کو اپنے رسول کے لیے فتح کر دیا ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کا حصہ مقرر ہوا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو اپنی ذات کے لیے مخصوص کر لیا ہے۔ حجاج نے مجھ سے یہ کہا: تھا۔ میں تین دن تک اس بات کو پوشیدہ رکھوں۔ حجاج یہاں اس لیے آیا تھا تاکہ اس کی جو چیزیں یہاں ہیں وہ انہیں حاصل کر لے اس کے بعد وہ چلا گیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: تو مسلمانوں کو مشرکین کے حوالے سے جو پریشانی تھی اللہ تعالیٰ نے اسے ختم کر دیا اور جو بھی مسلمان اپنے گھر میں چھپ کے بیٹھے ہوئے تھے وہ باہر نکل آئے یہاں تک کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آئے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں اصل صورت حال بتائی تو مسلمان اس سے بہت خوش ہوئے اور انہیں جو دکھ اور پریشانی اور مشرکین کے حوالے سے جو تکلیف تھی وہ اللہ تعالیٰ نے ختم کر دی۔