کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے مستحب ہے کہ رعایا کی عورتوں کے ساتھ نرمی اور شفقت کا برتاؤ کرے، خصوصاً ان کے ساتھ جو کم عقل یا کمزور ہوں
حدیث نمبر: 4527
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ امْرَأَةً كَانَ فِي عَقْلِهَا شَيْءٌ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّ لِي إِِلَيْكَ حَاجَةٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أُمَّ فُلانٍ ، " خُذِي أَيَّ الطُّرُقِ شِئْتِ ، فَقُومِي فِيهِ حَتَّى أَقُومَ مَعَكِ " ، فَخَلا مَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَاجِيهَا حَتَّى قَضَتْ حَاجَتَهَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک خاتون کچھ ذہنی مریض تھی اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے آپ سے ایک کام ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ام فلاں تم جس بھی جگہ پر چاہو جتنی دیر چاہو میں تمہارے ساتھ ہوں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کے ساتھ سرگوشی میں کوئی بات چیت کی یہاں تک کہ اس عورت نے اپنی ضرورت کو پورا کر لیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب السير / حدیث: 4527
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «مختصر الشمائل» (285). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4510»