کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے مستحب ہے کہ مسلمانوں کے معاملات اور مناصب کے لیے ایسے شخص کا انتخاب کرے جو اس کا اہل اور ان کے لیے بہتر ہو، نہ کہ محض قرابت دار یا قریبی ہونے کی وجہ سے کسی کو مقرر کرے
حدیث نمبر: 4526
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بْنَ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ اجْتَمَعَ رَبِيعَةُ بْنُ الْحَارِثِ وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَقَالا : وَاللَّهِ لَوْ بَعَثَنَا هَذَيْنِ الْغُلامَيْنِ ، قَالَ لِي وَلِلْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّرَهُمَا عَلَى هَذِهِ الصَّدَقَاتِ ، فَأَدَّيَا مَا يُؤَدِّي النَّاسُ ، وَأَصَابَا مَا يُصِيبُ النَّاسُ مِنَ الْمَنْفَعَةِ ، قَالَ : فَبَيْنَمَا هُمَا فِي ذَلِكَ ، جَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، فَقَالَ : مَاذَا تُرِيدَانِ ؟ فَأَخْبَرَاهُ بِالَّذِي أَرَادَا ، فَقَالَ : لا تَفْعَلا ، فَوَاللَّهِ مَا هُوَ بِفَاعِلٍ . فَقَالا : لِمَ تَصْنَعُ هَذَا ؟ فَمَا هَذَا مِنْكَ إِِلا نَفَاسَةٌ عَلَيْنَا ، فَوَاللَّهِ لَقَدْ صَحِبْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنِلْتَ صِهْرَهُ ، فَمَا نَفِسْنَا ذَلِكَ عَلَيْكَ ، فَقَالَ : أَنَا أَبُو حَسَنٍ أَرْسِلُوهُمَا ، ثُمَّ اضْطَجَعَ ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ ، سَبَقْنَاهُ إِِلَى الْحُجْرَةِ ، فَقُمْنَا عِنْدَهَا حَتَّى مَرَّ بِنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخَذَ بِآذَانِنَا ، وَقَالَ : " أَخْرِجَا مَا تُصَرِّرَانِ " . وَدَخَلَ ، فَدَخَلْنَا مَعَهُ ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ فِي بَيْتِ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ، قَالَ : فَكَلَّمْنَاهُ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، جِئْنَاكَ لِتُؤَمِّرَنَا عَلَى هَذِهِ الصَّدَقَاتِ فَنُصِيبُ مَا يُصِيبُ النَّاسُ مِنَ الْمَنْفَعَةِ ، وَنُؤَدِّي إِِلَيْكَ مَا يُؤَدِّي النَّاسُ . قَالَ : فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَفَعَ رَأْسَهُ إِِلَى سَقْفِ الْبَيْتِ ، حَتَّى أَرَدْنَا أَنْ نُكَلِّمَهُ ، قَالَ : فَأَشَارَتْ إِِلَيْنَا زَيْنَبُ مِنْ وَرَاءِ حِجَابِهَا كَأَنَّهَا تَنْهَانَا عَنْ كَلامِهِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ ، فَقَالَ : " أَلا إِِنَّ الصَّدَقَةَ لا تَنْبَغِي لِمُحَمَّدٍ ، وَلا لآلِ مُحَمَّدٍ ، إِِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ " . ادْعُ لِي مَحْمِيَةَ بْنَ جُزْءٍ وَكَانَ عَلَى الْعُشُورِ ، وَأَبَا سُفْيَانَ بْنَ الْحَارِثِ . قَالَ : فَأَتَيَا ، فَقَالَ لِمَحْمِيَةَ : " أَنْكِحْ هَذَا الْغُلامَ ابْنَتَكَ . لِلْفَضْلِ ، فَأَنْكَحَهُ ، وَقَالَ لأَبِي سُفْيَانَ : أَنْكِحْ هَذَا الْغُلامَ ابْنَتَكَ . قَالَ : فَأَنْكَحَنِي ، ثُمَّ قَالَ لِمَحْمِيَةَ : أَصْدِقْ عَنْهُمَا مِنَ الْخُمُسِ .
عبد المطلب بن ربیعہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ربیعہ بن حارث رضی اللہ عنہ اور سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اکٹھے ہوئے اور انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اگر ہم ان دو لڑکوں کو (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجیں، تو یہ مناسب ہو گا) راوی کہتے ہیں: انہوں نے مجھے اور سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کو زکوۃ کی وصولی کا نگران مقرر کر دیں اور جو تنخواہ لوگوں کو دیتے ہیں انہیں بھی دیا کریں اور جو فائدہ لوگوں کو حاصل ہوتا ہے ان دونوں کو بھی حاصل ہو۔ راوی کہتے ہیں: یہ دونوں صاحبان ابھی وہیں بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے انہوں نے دریافت کیا: آپ دونوں کیا چاہتے ہیں؟ ان دونوں صاحبان نے اپنے ارادے کے بارے میں انہیں بتایا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ دونوں ایسا نہ کریں اللہ کی قسم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہیں کریں گے ان دونوں نے دریافت کیا: یہ آپ کیوں کہہ رہے ہیں؟ یہ آپ صرف ہمارے ساتھ حسد کی وجہ سے کہہ رہے ہیں۔ آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نصیب ہوا، آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد ہیں، لیکن ہم نے تو آپ سے حسد نہیں کیا۔ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں ابوالحسن ہوں تم ان دونوں کو بھیج دو پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ لیٹ گئے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا کر لی تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ مبارک کے پاس آ کر کھڑے ہو گئے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے کان پکڑے اور فرمایا: جو تمہارے ذہن میں ہے بیان کرو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے اندر تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہم بھی اندر گئے اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ زینب بن جحش رضی اللہ عنہا کے ہاں مقیم تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ہم دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں بات چیت کی ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں تاکہ آپ ہمیں زکوۃ وصول کرنے کا نگران مقرر کریں اور اس سے جو فائدہ لوگوں کو ہوتا ہے وہ ہمیں بھی حاصل ہو (یعنی ہمیں بھی تنخواہ ملے) ہم بھی آپ کو وہ چیز ادا کریں گے جو لوگ ادا کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک اٹھا کر گھر کی چھت کی طرف دیکھا، یہاں تک کہ ہم نے یہ خواہش کی کہ ہم نے آپ سے اس بارے میں بات چیت نہ کی ہوتی۔ راوی بیان کرتے ہیں: پردے کے پیچھے سے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے ہمیں اشارہ کیا کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات نہ کریں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خبردار! محمد اور محمد کے گھر والوں کے لیے زکوۃ مناسب نہیں ہے ” یہ لوگوں کا مال ہے تم محمد بن جزء کو میرے پاس بلا کر لاؤ یہ صاحبعشر “ وصول کرنے کے نگران تھے اور ابوسفیان بن حارث کو میرے پاس بلا کر لاؤ۔ راوی کہتے ہیں: وہ دونوں حضرات آ گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا محمیہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اس لڑکے کی شادی اپنی بیٹی کے ساتھ کر دو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سیدنا فضل صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ارشاد فرمائی تو انہوں نے ان کے ساتھ شادی کر دی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان بن حارث سے فرمایا: اس لڑکے کی شادی اپنی بیٹی کے ساتھ کر دو۔ راوی کہتے ہیں تو انہوں نے میری شادی کر دی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا محمیہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا خمس میں سے ان دونوں کا مہر ادا کر دو۔