کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: خلافت و امارت کا بیان - حکمرانوں کو اس بات سے سختی سے روکا گیا ہے کہ وہ اپنی رعایا کے ساتھ ایسا طریقہ اختیار کریں جس کی اجازت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ دی ہو
حدیث نمبر: 4525
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالا : حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ هِشَامٍ الْغَسَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ السَّكُونِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ ، قَالَ : بَيْنَا أَبُو الدَّرْدَاءِ يَوْمًا يَسِيرُ شَاذًّا مِنَ الْجَيْشِ ، إِِذْ لَقِيَهُ رَجُلانِ شَاذَانِ مِنَ الْجَيْشِ ، فَقَالَ : يَا هَذَانِ ، إِِنَّهُ لَمْ يَكُنْ ثَلاثَةٌ فِي مِثْلِ هَذَا الْمَكَانِ إِِلا أُمَّرُوا عَلَيْهِمْ ، فَلْيَتَأَمَّرْ أَحَدُكُمْ . قَالا : أَنْتَ يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ . قَالَ : بَلْ أَنْتُمَا ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا مِنْ وَالِي ثَلاثَةٍ إِِلا لَقِيَ اللَّهَ مَغْلُولَةَ يَمِينُهُ ، فَكَّهُ عَدْلُهُ ، أَوْ غَلَّهُ جَورُهُ " .
عدی بن عدی کندی بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ لشکر سے ہٹ کر سفر کر رہے تھے اسی دوران ان کی ملاقات دو آدمیوں سے ہوئی وہ بھی لشکر سے ہٹے ہوئے تھے۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے دو آدمیو! جب بھی اس طرح کی جگہ پر تین آدمی اکٹھے ہو جائیں تو ان پر کوئی امیر بھی ہونا چاہئے اس لیے تم اپنے میں سے کسی کو امیر مقرر کر دو۔ ان دونوں نے کہا: اے ابودرداء آپ امیر ہیں تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بلکہ تم دونوں امیر ہو۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” جب بھی تین آدمیوں کا کوئی نگران اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا تو اس کا دائیاں ہاتھ باندھا ہوا ہو گا اگر اس نے انصاف کیا ہو گا تو وہ اس کے ہاتھ کو کھلوا دے گا اور اگر ظلم کیا ہو گا تو وہ ہاتھ بندھا رہے گا۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب السير / حدیث: 4525
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «التعليق الرغيب» (3/ 140). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف جدا
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4508»