کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: خلافت و امارت کا بیان - اگر امام راستے میں پیاسا ہو جائے تو اس کے لیے پانی مانگنے کی اجازت
حدیث نمبر: 4522
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جَوْنِ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَتَى فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ عَلَى بَيْتٍ فِي فِنَائِهِ قِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ فَاسْتَسْقَى ، فَقِيلَ لَهُ : إِِنَّهَا مَيْتَةٌ ، فَقَالَ : " ذَكَاةُ الأَدِيمِ دِبَاغُهُ " .
سیدنا سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک کے موقع پر ایک گھر میں تشریف لائے جس کے کونے میں مشکیزہ لٹکا ہوا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی مانگا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی: یہ (مشکیزہ) مردار کی کھال سے بنا ہوا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دباغت چمڑے کو پاک کر دیتی ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب السير / حدیث: 4522
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «غاية المرام» (26). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح لغيره
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4505»