کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: خلافت و امارت کا بیان - اس قول نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا سبب بیان کیا گیا ہے
حدیث نمبر: 4519
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحُنَيْنٍ ، فَقَالَ لِرَجُلٍ مِمَّنْ يُدْعَى بِالإِِسْلامِ : " هُوَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ " . فَلَمَّا حَضَرَ الْقِتَالَ ، قَاتَلَ الرَّجُلُ قِتَالا شَدِيدًا فَأَصَابَهُ الْجِرَاحُ ، فَقِيلَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الرَّجُلُ الَّذِي قُلْتَ إِِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، قَاتَلَ الْيَوْمَ قِتَالا شَدِيدًا فَمَاتَ . فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِِلَى النَّارِ " . فَكَادَ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْتَابَ ، فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ ، إِِذْ قِيلَ : لَمْ يَمُتْ وَبِهِ جِرَاحٌ شَدِيدَةٌ ، فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلُ اشْتَدَّ بِهِ الْجِرَاحُ ، فَقَتَلَ نَفْسَهُ ، فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ ، فَقَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ ، أَشْهَدُ أَنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ " . ثُمَّ أَمَرَ بِلالا فَنَادَى فِي النَّاسِ : " لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِِلا نَفْسٌ مَسْلَمَةٌ ، وَإِِنَّ اللَّهَ يُؤَيِّدُ الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حنین میں موجود تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے بارے میں جو مسلمان کے طور پر پہچانا جاتا تھا یہ فرمایا: یہ اہل جہنم میں سے ہے، جب جنگ شروع ہوئی تو اس شخص نے شدید لڑائی کی اور وہ زخمی ہو گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! وہ شخص جس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا: یہ اہل جہنم میں سے ہے اس نے تو آج بڑی شدید لڑائی کی ہے اور انتقال کر گیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جہنم میں جائے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب کو اس بارے میں الجھن ہوئی ابھی وہ اسی حالت میں تھے کہ یہ بات بیان کی گئی اس کا انتقال نہیں ہوا وہ شدید زخمی ہے جب رات ہوئی تو اس کے زخم میں تکلیف زیادہ ہو گئی تو اس نے خودکشی کر لی۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ اکبر! میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں بے شک میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا وہ لوگوں میں اعلان کر دیں: جنت میں صرف مسلمان داخل ہو گا اور اللہ تعالیٰ کسی گنہگار شخص کے ذریعے اس دین کی تائید کر دیتا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب السير / حدیث: 4519
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» -أيضا-: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4502»