کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: خلافت و امارت کا بیان - حکمرانوں اور ان کے کارندوں کو مسلمانوں کے مال سے صرف وہی لینے کی اجازت ہے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حلال کیا ہے
حدیث نمبر: 4515
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ ، يَقُولُ : اسْتَعْمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ اللُّتْبِيَّةِ عَلَى الصَّدَقَةِ ، فَلَمَّا جَاءَ حَاسَبَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : هَذَا لَكُمْ وَهَذِهِ هَدِيَّةٌ أُهْدِيَتْ إِِلَيَّ . فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلا جَلَسْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَأُمِّكَ حَتَّى تَأْتِيَكَ هَدِيَّتُكَ " . فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ قَامَ فَخَطَبَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ " مَا بَالُ أَقْوَامٍ نُوَلِّيهِمْ أُمُورًا مِمَّا وَلانَا اللَّهُ ، وَنَسْتَعْمِلَهُمْ عَلَى أُمُورٍ مِمَّا وَلانِي اللَّهُ ، ثُمَّ يَأْتِي أَحَدُهُمْ ، فَيَقُولُ : هَذَا لَكُمْ وَهَذِهِ أُهْدِيَتْ إِِلَيَّ ، أَلا جَلَسَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ حَتَّى تَأْتِيَهُ هَدِيَّتُهُ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لا يَأْخُذُ أَحَدٌ مِنْكُمْ شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ إِِلا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَى عَاتِقِهِ ، فَلا أَعْرِفَنَّ رَجُلا يَحْمِلُ عَلَى عُنُقِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَعِيرًا لَهُ رُغَاءٌ ، أَوْ بَقَرَةً لَهَا خُوَارٌ ، أَوْ شَاةً تَيْعَرُ . ثُمَّ بَسَطَ يَدَهُ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِِبْطَيْهِ بَصَرَ عَيْنِي وَسَمِعَ أُذُنِي ، ثُمَّ قَالَ : أَلا هَلْ بَلَّغْتُ ، ثَلاثًا " . الشَّهِيدُ عَلَى ذَلِكَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيُّ يَحُكُّ مَنْكِبِي مَنْكِبَهُ .
سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن لتبیہ کو زکوۃ وصول کرنے کا نگران مقرر کیا جب وہ آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے حساب لیا اس نے بتایا: یہ آپ کے لیے ہے اور یہ تحفہ ہے جو مجھے تحفے کے طور پر دیا گیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے ماں باپ کے گھر میں کیوں نہیں بیٹھے رہے تاکہ تمہارا تحفہ وہاں تمہارے پاس آ جاتا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں نے ظہر کی نماز ادا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعلی کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا۔ امابعد! لوگوں کو کیا ہو گیا ہے اللہ تعالیٰ نے ہمیں جس چیز کا نگران بنایا ہے ہم اس میں سے کچھ کاموں کا نگران (کچھ) لوگوں کو بناتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں جس چیز کا نگران بنایا ہے اس سلسلے میں کوئی کام لوگوں سے لیتے ہیں پھر ان میں سے کوئی ایک شخص میرے پاس آ کر یہ کہتا ہے یہ آپ کے لیے ہے اور یہ مجھے تحفے کے طور پر دیا گیا ہے وہ شخص اپنے ماں باپ کے گھر میں کیوں نہیں بیٹھا رہتا کہ اس کا تحفہ خود ہی اس تک آ جائے۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے جو بھی شخص جس بھی چیز کو ناحق طور پر لے گا تو جب وہ قیامت کے دن آئے گا تو اس نے اپنی گردن پر اس چیز کو اٹھایا ہوا ہو گا، تو میں کسی ایسے شخص کو نہ پاؤں جس نے قیامت کے دن کسی اونٹ کو اپنی گردن پر اٹھایا ہوا ہو اور وہ آواز نکال رہا ہو یا گائے کو اٹھایا ہوا ہو وہ آواز نکال رہی ہو یا بکری کو اٹھایا ہوا ہو اور وہ منمنا رہی ہو۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک پھیلایا، یہاں تک کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغل کی سفیدی نظر آ گئی میں نے (یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو) اپنی آنکھوں کے ذریعے دیکھا اور میرے کانوں نے اس بات کو سنا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خبردار کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس بات کے گواہ سیدنا زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ ہیں، کیونکہ وہ اس وقت میرے کندھے سے کندھا ملا کر بیٹھے ہوئے تھے۔