کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: خلافت و امارت کا بیان - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فاسق و ناسمجھی کرنے والے حکمرانوں سے پناہ مانگنا
حدیث نمبر: 4514
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ : يَا كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ " أَعَاذَنَا اللَّهُ مِنْ إِِمَارَةِ السُّفَهَاءِ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا إِِمَارَةُ السُّفَهَاءِ ؟ قَالَ : " أُمَرَاءُ يَكُونُونَ بَعْدِي لا يَهْتَدُونَ بِهَدْيِي ، وَلا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِي ، فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكِذْبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ ، فَأُولَئِكَ لَيْسُوا مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُمْ ، وَلا يَرِدُوا عَلَيَّ حَوْضِي ، وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكِذْبِهِمْ ، وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ ، فَهُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ ، وَسَيَرِدُونَ عَلَيَّ حَوْضِي ، يَا كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ : الصَّوْمُ جُنَّةٌ ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ ، وَالصَّلاةُ بُرْهَانٌ ، أَوْ قَالَ : قُرْبَانٌ ، يَا كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ : النَّاسُ غَادِيَانِ : فَمُبْتَاعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا ، وَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُوبِقُهَا " .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے کعب بن عجرہ! اللہ تعالیٰ ہمیں بے وقوفوں کی حکومت سے بچائے۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! بے وقوفوں کی حکومت سے مراد کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے بعد کچھ ایسے حکمران آئیں گے جو ہدایت کی پیروی نہیں کریں گے میری سنت کی پیروی نہیں کریں گے تو جو شخص ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا اور ان کے ظلم میں ان کی مدد کرے گا تو ان لوگوں کا مجھ سے کوئی واسطہ نہیں ہو گا اور میرا ان سے کوئی واسطہ نہیں ہو گا اور وہ لوگ میرے حوض پر میرے پاس نہیں آ سکیں گے اور جو شخص ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق نہیں کرے گا ان کے ظلم میں ان کی مدد نہیں کرے گا اس کا مجھ سے تعلق ہو گا اور میرا اس سے تعلق ہو گا اور وہ عنقریب میرے حوض پر میرے پاس آئے گا۔ اے کعب بن عجرہ! روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہ کو ختم کر دیتا ہے، نماز برہان ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) قربت کے حصول کا ذریعہ ہے۔ اے کعب بن عجرہ! لوگ گھر سے نکلتے ہیں اور اپنے آپ کا سودا کر لیتے ہیں، تو کوئی شخص اپنے آپ کو آزاد کروا دیتا ہے اور کوئی اپنے آپ کو فروخت کر کے اسے غلام بنا دیتا ہے۔