کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: خلافت و امارت کا بیان - امام پر لازم ہے کہ دنیا جمع کرنے کا لالچ اپنی ذات کے لیے نہ رکھے
حدیث نمبر: 4510
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ ، عَنْ إِِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ وَكَانَ يُكْنَى أَبَا هَاشِمٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنْتُ فِي وَفْدِ بَنِي الْمُنْتَفِقِ ، فَبَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِِذْ رَفَعَ الرَّاعِي غَنَمَهُ إِِلَى الْمُرَاحِ ، فَإِِذَا سَخْلَةً تَيْعَرُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا وَلَدَتْ ؟ " فَقَالَ الرَّاعِي : بَهْمَةٌ . فَقَالَ : " اذْبَحْ مَكَانَهَا شَاةً " ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَحْسِبَنَّ بِالْخَفْضِ ، وَلَمْ يَقُلْ : لا تَحْسَبَنَّ بِالنَّصْبِ ، أَنَّا مِنْ أَجْلِكَ ذَبَحْنَاهَا ، إِِنَّ لَنَا غَنَمًا مِائَةٌ ، فَإِِذَا وَلَدَ الرَّاعِي بَهْمَةً ذَبَحْنَا مَكَانَهَا شَاةً " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِِنَّ لِي امْرَأَةً ، وَفِي لِسَانِهَا شَيْءٌ يَعْنِي الْبَذَاءَ ، قَالَ : " طَلِّقْهَا إِِذًا " . فَقَالَ : إِِنَّ لَهَا صُحْبَةً ، وَلِي مِنْهَا وَلَدٌ . قَالَ : " فَمُرْهَا بِقَوْلٍ فَعِظْهَا لَعَلَّهَا أَنْ تَعْقِلَ ، وَلا تَضْرِبْ ظَعِينَتَكَ كَضَرْبِكَ إِِبِلَكَ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي عَنِ الْوضُوءِ . قَالَ : " إِِذَا تَوَضَّأْتَ فَأَسْبِغِ الْوضُوءَ ، وَخَلِّلْ بَيْنَ الأَصَابِعِ ، وَبَالِغْ فِي الاسْتِنْشَاقِ ، إِِلا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا " .
عاصم بن لقیط بن صبرہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں بنو منتفق کے وفد میں شامل تھا ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اسی دوران ایک چرواہا اپنی بکری کو اٹھا کر باڑے کی طرف لے گیا وہ آوازیں نکال رہی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اس نے کیا جنم دیا ہے چرواہے نے جواب دیا: بچے کو جنم دیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کی جگہ کوئی اور بکری ذبح کرو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم یہ گمان نہ کرنا کہ ہم نے تمہاری وجہ سے اسے ذبح کیا ہے (راوی بیان کرتے ہیں: یہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظ پر زیر پڑھی تھی زبر نہیں پڑھی تھی) (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) ہمارے پاس ایک سو بکریاں ہیں جب کوئی ایک بکری بچہ دیتی ہے، تو ہم اس کی جگہ ایک بکری کو ذبح کر دیتے ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میری بیوی کی زبان میں کچھ خرابی ہے یعنی وہ بدزبانی کا مظاہرہ کرتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسے طلاق دے دو انہوں نے عرض کی: اس کے ساتھ بڑا پرانا ساتھ ہے پھر اس سے میری اولاد بھی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے زبانی طور پر وعظ و نصیحت کر کے سمجھاؤ ہو سکتا ہے اسے سمجھ آ جائے تم اپنی بیوی کو اس طرح نہ مارو جس طرح تم اپنے اونٹ کو مارتے ہو۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ مجھے وضو کے بارے میں بتائیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم وضو کرو تو اچھی طرح وضو کرو اور اپنی انگلیوں کے درمیان خلال کرو اور اچھی طرح ناک میں پانی ڈالو البتہ اگر تمہارا روزہ ہو (تو پھر مبالغہ نہ کرو)۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب السير / حدیث: 4510
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (1051). تنبيه!! رقم (1051) = (1054) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده جيد
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4493»