کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: خلافت و امارت کا بیان - اس بات کی خبر کہ حکمرانوں کے لیے ان لوگوں کا دل نرم کرنے کا استحباب ہے جن سے دین و اسلام کی امید ہو۔
حدیث نمبر: 4501
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِِنَّ قُرَيْشًا حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَأَلَّفَهُمْ " . ثُمَّ قَالَ لَهُمْ : " أَفِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ ؟ " قَالُوا : ابْنُ أُخْتٍ لَنَا . قَالَ : " ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ " .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” قریش زمانہ جاہلیت سے قریب ہیں اس لیے میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں انہیں مانوس کروں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا تمہارے درمیان تمہارے علاوہ کوئی اور ہے لوگوں نے بتایا: ہمارا ایک بھانجا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کا بھانجا ان کا حصہ ہوتا ہے۔ “