کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: خلافت و امارت کا بیان - اس بات کا بیان کہ ہر نگہبان پر لازم ہے کہ اپنی رعایا کی حفاظت کرے، چاہے اس کی ذمہ داری چھوٹی ہو یا بڑی۔
حدیث نمبر: 4490
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ : فَالإِِمَامُ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِي أَهْلِهِ وَمَسْئُولٌ عَنْ أَهْلِهِ ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا وَمَسْئُولَةٌ عَنْ رَعَيَّتِهَا ، وَالْخَادِمُ رَاعٍ فِي مَالِ سَيِّدِهِ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، وَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ " .
سالم بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” تم میں سے ہر شخص نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی نگرانی کے بارے میں حساب لیا جائے گا حاکم نگران اس سے اس کی رعایا کے بارے میں حساب لیا جائے گا آدمی اپنے گھر والوں کا نگران ہے اس سے اس کے گھر والوں کے بارے میں حساب لیا جائے گا۔ عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگران ہے اس سے اس کے ماتحت چیزوں کے بارے میں حساب لیا جائے گا۔ خادم اپنے آقا کے مال کا نگران ہے اس سے اس کی نگرانی کے بارے میں حساب لیا جائے گا۔ تم میں سے ہر ایک شخص نگران ہے اور اس سے اس کی نگرانی کے بارے میں حساب لیا جائے گا۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب السير / حدیث: 4490
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4473»