کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے اپنی رعایا کے معاملات میں احتیاط و حفاظت اختیار کرنے کا استحباب۔
حدیث نمبر: 4488
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ هِيتًا كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أَزْوَاجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلا يَعُدُّونَهُ مِنْ أُولِي الإِِرْبَةِ " فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ يَنْعَتُ امْرَأَةً ، وَهُوَ يَقُولُ : إِِنَّهَا إِِذَا أَقْبَلَتْ بِأَرْبَعٍ ، وَإِِذَا أَدْبَرَتْ أَدْبَرَتْ بِثَمَانٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلا أَرَى هَذَا يَعْلَمُ مَا هَا هُنَا ؟ لا يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ " . وَأَخْرَجَهُ ، فَكَانَ بِالْبَيْدَاءِ يَدْخُلُ كُلَّ يَوْمِ جُمُعَةٍ يَسْتَطْعِمُ .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہیت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے ہاں آیا جایا کرتا تھا لوگ یہ سمجھتے تھے کہ اس میں نفسانی خواہش نہیں ہے۔ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے تو وہ کسی عورت کی خوبصورتی کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہہ رہا تھا کہ جب وہ آتی ہے تو اس کی چار سلوٹیں پڑتی ہیں اور جب وہ جاتی ہے تو اس کی آٹھ سلوٹیں ہوتی ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا میں یہ نہیں دیکھ رہا کہ اسے ان چیزوں کا پتہ ہے۔ یہ تمہارے ہاں نہ آیا کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وہاں سے نکلوا دیا تو وہ کھلے میدان میں رہا کرتا تھا اور ہر جمعے کے دن کھانا لینے کے لیے آیا کرتا تھا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب السير / حدیث: 4488
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م دون ذكر البيداء والاسم. * [هِيتًا] قال الشيخ: في الأصل: (مخنثاً)، والتصحيحُ مِنْ «طبعة المؤسسة» للكتاب، و «الموارد» (1964)، و «فتح الباري» (9/ 334)، وذكر أَنَّهُ أخرجه «أبو يعلى، وأبو عوانة، وابن حِبَّان»، وهو عند أبي داود (4109) بذكر البيداء، لكنَّه لم يُسَمِّ: (هيتاً)؛ خلافاً لِمَا يُوهِمُه تَخريجُ شعيب إِيَّاهُ. رواهُ مُسلمٌ (7/ 11) باختصار الاسم والبيداء، وهو روايةٌ لأبي داودَ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4471»