کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے اپنی رعایا پر عدل و انصاف کے ساتھ نرمی اور شفقت اختیار کرنے کا استحباب۔
حدیث نمبر: 4487
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا فَيَّاضُ بْنُ زُهَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا جَهْمِ بْنِ حُذَيْفَةَ مُصَدِّقًا " فَلاجَّهُ رَجُلٌ فِي صَدَقَتِهِ ، فَضَرَبَهُ أَبُو جَهْمٍ فَشَجَّهُ ، فَأَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : الْقَوَدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَكُمْ كَذَا وَكَذَا " . فَلَمْ يَرْضَوْا ، فَقَالَ : " لَكُمْ كَذَا وَكَذَا " . فَلَمْ يَرْضَوْا ، فَقَالَ : " لَكُمْ كَذَا وَكَذَا " . فَرَضُوا ، وَقَالَ : " أَرَضِيتُمْ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوجہم بن حذیفہ رضی اللہ عنہ کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا تو زکوۃ کی ادائیگی کرتے ہوئے ایک شخص کی ان کے ساتھ بحث ہو گئی۔ سیدنا ابوجہم رضی اللہ عنہ نے اسے مارا اور زخمی کر دیا۔ وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہمیں قصاص دلوائیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم یہ چیزیں لے لو (اور اس پر راضی ہو جاؤ)، لیکن وہ لوگ اس پر راضی نہیں ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہ، یہ چیزیں مزید لے لو وہ اس پر بھی راضی نہیں ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہ، یہ چیزیں مزید لے لو تو وہ اس بات پر راضی ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم راضی ہو گئے ہو۔ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب السير / حدیث: 4487
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر التعليق. * [فَيَّاضُ بْنُ زُهَيْرٍ] قال الشيخ: وثقه المؤلف، انظر «التيسير». وتابعه أحمد (6/ 222) - وغيره -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4470»