کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: خلافت و امارت کا بیان - اس بات کا بیان کہ اللہ تعالیٰ عادل امام کو اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا، اس دن جب اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔
حدیث نمبر: 4486
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لا ظِلَّ إِِلا ظِلُّهُ : إِِمَامٌ عَادِلٌ ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللَّهِ تَعَالَى ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ ، وَرَجُلٌ كَانَ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي الْمَسْجِدِ ، وَرَجُلانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتَ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ إِِلَى نَفْسِهَا ، فَقَالَ : إِِنِّي أَخَافُ اللَّهَ ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” سات لوگ ایسے ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ اس دن اپنا سایہ نصیب کرے گا جس دن اس کے سائے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہیں ہو گا۔ عادل حکمران وہ نوجوان جس کی نشوونما اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہوئے ہوئی وہ شخص جو تنہائی میں اللہ کا ذکر کر رہا ہو تو اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جائیں، وہ شخص جس کا دل مسجد کے ساتھ معلق رہتا ہو وہ دو افراد جو اللہ تعالیٰ کے لیے ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں اسی وجہ سے وہ ملتے ہیں اسی وجہ سے جدا ہوتے ہیں۔ ایک وہ شخص کوئی صاحب حیثیت اور خوب صورت عورت اپنی ذات کی طرف (گناہ کی) دعوت دیتی ہے اور وہ شخص یہ کہتا ہے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں اور وہ شخص جو کوئی صدقہ کرتے ہوئے اسے اتنا پوشیدہ رکھتا ہے بائیں ہاتھ کو یہ پتہ نہیں چلتا کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب السير / حدیث: 4486
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (887): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4469»