کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: خلافت و امارت کا بیان - قیامت کے دن عادل حکمرانوں کی صفات کا بیان۔
حدیث نمبر: 4484
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَخْبَرَهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمُقْسِطُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى مَنَابِرٍ مِنْ نُورٍ عَنْ يَمِينِ الرَّحْمَنِ ، وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ ، الْمُقْسِطُونَ عَلَى أَهْلِيهِمْ وَأَوْلادَهُمْ ، وَمَا وَلُّوا " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذَا الْخَبَرُ مِنْ أَلْفَاظِ التَّعَارُفِ ، أُطْلِقَ لَفْظُهُ عَلَى حَسَبِ مَا يَتَعَارَفُهُ النَّاسُ فِيمَا بَيْنَهُمْ ، لا عَلَى الْحَقِيقَةِ ، لِعَدَمِ وُقُوفِهِمْ عَلَى الْمُرَادِ مِنْهُ إِِلا بِهَذَا الْخِطَابِ الْمَذْكُورِ ، وَالْمُقْسِطُ : الْعَدْلُ ، وَالْقَاسِطُ : الْعَادِلُ عَنِ الطَّرِيقِ .
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” (دنیا میں) انصاف کرنے والے لوگ قیامت کے دن رحمان کے دائیں طرف نور کے منبروں پر ہوں گے حالانکہ اس (رحمٰن) کے دونوں طرف دائیں ہیں وہ لوگ جو اپنی بیویوں کے ساتھ اپنی اولاد کے ساتھ اور جس معاملے کے وہ نگران بنتے ہیں اس کے ساتھ انصاف سے کام لیتے ہیں۔ “ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت کے الفاظ لوگوں کے عام محاور ے کے مطابق ہیں اور یہاں وہ لفظ استعمال ہوئے ہیں جو لوگ اپنے محاور ے میں استعمال کرتے ہیں اس کا حقیقی مفہوم مراد نہیں ہے کیونکہ اس کی مراد سے واقفیت حاصل نہیں کی جا سکتی وہ واقفیت صرف انہی الفاظ میں حاصل کی جا سکتی ہے جو اس روایت میں ذکر ہوئے ہیں۔ لفظ ” مقسط“ کا مطلب انصاف کرنا ہے اور لفظ ” قاسط “ مطلب راستے سے ہٹ جانے والا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب السير / حدیث: 4484
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «آدراب الزفاف» (280 - 281): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4467»