کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: ارتداد (دین چھوڑنے) کی حد کا بیان - اس سبب کا بیان جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آیت «كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ» نازل فرمائی۔
حدیث نمبر: 4477
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْهَمْدَانِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ أَسْلَمَ ثُمَّ ارْتَدَّ فَلَحِقَ بِالشِّرْكِ ، ثُمَّ نَدِمَ فَأَرْسَلَ إِِلَى قَوْمِهِ أَنْ سَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ ؟ قَالَ : فَنَزَلَتْ : كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ وَشَهِدُوا أَنَّ الرَّسُولَ حَقٌّ وَجَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ إِِلَى قَوْلِهِ إِلا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة آل عمران آية 86 - 89 ، فَأَرْسَلَ إِِلَيْهِ قَوْمُهُ فَأَسْلَمَ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص مسلمان ہو گیا پھر وہ مرتد ہو گیا اور مشرکین سے جا ملا پھر اسے ندامت ہوئی اس نے اپنی قوم کی طرف پیغام بھیجا کہ تم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرو کیا میرے لیے توبہ کی گنجائش ہے؟ راوی بیان کرتے ہیں: تو یہ آیت نازل ہوئی۔ ” اللہ تعالیٰ اس قوم کو کیسے ہدایت نصیب کر سکتا ہے، جو اسلام قبول کرنے کے بعد کافر ہو جائیں جب کہ وہ اس بات کی یہ گواہی دے چکے ہوں کہ رسول سچا ہے اور ان کے پاس دلائل بھی آ چکے ہوں۔ “ آیت یہاں تک ہے۔ ” ماسوائے ان لوگوں کے جو اس کے بعد توبہ کر لیں اور وہ ٹھیک ہو جائیں بے شک اللہ تعالیٰ مغفرت کرنے والا ہے اور رحم کرنے والا ہے۔ “ تو اس کی قوم نے اسے پیغام بھجوایا تو اس نے اسلام قبول کر لیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحدود / حدیث: 4477
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3066). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4460»