کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: راہزنی کی حد کا بیان - اس بات کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرنیوں کو اس لیے قتل کیا کہ انہوں نے اسلام لانے کے بعد کفر کیا اور مرتد ہوگئے تھے۔
حدیث نمبر: 4472
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ نَاسًا مِنْ عُكْلٍ وَعُرَيْنَةَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَكَلَّمُوا بِالإِِسْلامِ ، وَقَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِِنَّا كُنَّا أَهْلَ ضَرْعٍ وَلَمْ نَكُنْ أَهْلَ رِيفٍ ، وَاسْتَوْخَمُوا الْمَدِينَةَ ، فَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ وَرَاعٍ ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا لِيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا ، فَانْطَلَقُوا حَتَّى إِِذَا كَانُوا فِي نَاحِيَةِ الْحَرَّةِ " كَفَرُوا بَعْدَ إِِسْلامِهِمْ ، وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَاسْتَاقُوا الذَّوْدَ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي آثَارِهِمْ ، فَأُتِيَ بِهِمْ فَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ ، وَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ ، ثُمَّ تَرَكَهُمْ فِي نَاحِيَةِ الْحَرَّةِ حَتَّى مَاتُوا عَلَى حَالِهِمْ ذَلِكَ " .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: عکل (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) عرینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے اسلام کے بارے میں بات چیت کی (یعنی اسلام قبول کر لیا) انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! ہم لوگ جانور پالنے والے لوگ ہیں ہم کھیتی باڑی کرنے والے لوگ نہیں ہیں۔ ان لوگوں کو مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہیں آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اونٹوں اور چرواہے کے پاس جانے کا حکم دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ لوگ جائیں اور ان اونٹوں کا پیشاب اور دودھ پئیں۔ وہ لوگ چلے گئے یہاں تک کہ وہ پتھریلے علاقے کے کنارے پر پہنچ گئے وہاں انہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد کفر کو اختیار کیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو ہانک کر لے گئے جب اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے مہم روانہ کی۔ ان لوگوں کو پکڑ کر لایا گیا ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دی گئیں ان کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دیئے گئے اور پھر انہیں پتھریلی زمین کے کنارے پر ڈال دیا گیا یہاں تک کہ وہ اسی حالت میں مر گئے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحدود / حدیث: 4472
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. تنبيه!! وقع هذا الحديث في «طبعة باوزير» مكان الذي قبله والذي قبله مكانه ملحوظة قول الشيخ: انظر ما قبله. أي رقم (4453). لأن رقم هذا الحديث (4454) وما قبله هو (4453). انظر ما قبله بحديثين. وهذا كله بسبب أن «طبعة المؤسسة» قدموا حديث على الآخر وعُكِسَ الوضع في «طبعة باوزير». وأشار إلى هذا «الناشر» بقوله: «وقع هذا الحديث والذي قبله - في «طبعة المؤسسة» - متبادلي المواقع». -مدخل بيانات الشاملة-. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4454»