کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: راہزنی کی حد کا بیان - اس بات کا بیان کہ عرنیوں نے اپنے فعل کے بعد کفر کیا۔
حدیث نمبر: 4471
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَرٌ مِنْ عُرَيْنَةَ ، فَقَالَ لَهُمْ : لَوْ خَرَجْتُمْ إِِلَى ذَوْدِنَا فَكُنْتُمْ فِيهَا فَشَرِبْتُمْ مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا . فَفَعَلُوا " فَلَمَّا صَحُّوا قَامُوا إِِلَى رَاعِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَتَلُوهُ ، وَرَجَعُوا كُفَّارًا ، وَاسْتَاقُوا ذَوْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ ، فَأُتِيَ بِهِمْ ، فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ ، وَسَمَّلَ أَعْيُنَهُمْ " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو عرینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم لوگ ہمارے اونٹوں کی طرف چلے جاؤ اور وہاں ٹھہرے رہو اور ان کا دودھ اور پیشاب پیو (تو یہ مناسب ہو گا) ان لوگوں نے ایسا ہی کیا جب وہ لوگ تندرست ہو گئے تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کے پاس جا کر اسے قتل کر دیا اور دوبارہ کافر ہو گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ ہانک کر لے گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں مہم روانہ کی ان لوگوں کو پکڑ کر لایا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیئے اور ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروا دیں۔