کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: راہزنی کی حد کا بیان - اس مدت کا بیان جس میں عرنیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔
حدیث نمبر: 4469
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَهْطًا مِنْ بَنِي عُكْلٍ ، أَوْ قَالَ : مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ فَاجْتَوَوْهَا ، فَأَمَرَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلِقَاحٍ ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا ، فَشَرِبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا حَتَّى بَرِءُوا وَذَهَبَ سَقَمُهُمْ ، فَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَطَرَدُوا النَّعَمَ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَعَثَ إِِلَيْهِمْ غُدْوَةً ، فَمَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ حَتَّى جِيءَ بِهِمْ ، فَقُطِعَتْ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلَهُمْ ، وَسَمَّلَ أَعْيُنَهُمْ ، وَأُلْقُوا بِالْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ فَلا يَسْقُونَ " . قَالَ : فَقَالَ أَبُو قِلابَةَ : هَؤُلاءِ قَوْمٌ قَتَلُوا ، وَسَرَقُوا ، وَكَفَرُوا بَعْدَ إِِيمَانِهِمْ ، وَحَارَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بنو عکل سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) عرینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ مدینہ منورہ آئے۔ وہاں کی آب و ہوا انہیں موافق نہیں آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اونٹوں کی طرف جانے کا حکم دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ اونٹنیوں کا دودھ اور پیشاب پئیں۔ جب انہوں نے ان کا دودھ اور پیشاب پیا اور ان کی بیماری ختم ہو گئی تو انہوں نے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹ ہانک کر لے گئے۔ یہ اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کے وقت ان کے پیچھے مہم روانہ کر دی۔ دن چڑھ جانے کے بعد ان کو پکڑ کر لایا گیا ان کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دیئے گئے ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دیں اور انہیں تپتے ہوئے پتھروں پر ڈال دیا وہ لوگ پانی مانگتے تھے لیکن انہیں پانی نہیں دیا گیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: ابوقلابہ نے یہ بات بیان کی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں، جنہوں نے قتل بھی کیا چوری بھی کی ایمان لانے کے بعد کفر بھی اختیار کیا اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ بھی کی (اس لیے انہیں اتنی سخت سزا دی گئی)
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحدود / حدیث: 4469
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4452»