کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: چوری کی حد کا بیان - اس خاص مقدار کا بیان جو عمومی حکم سے مستثنیٰ کی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 4466
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحِرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ الْعَطَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ ، أَنَّ غُلامًا سَرَقَ وَدْيًا مِنْ حَائِطٍ ، فَرُفِعَ إِِلَى مَرْوَانَ ، فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ ، فَقَالَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ : إِِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا قَطَعَ فِي ثَمَرٍ وَلا كَثَرٍ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : عُمُومُ الْخِطَابِ فِي الْكِتَابِ قَوْلُهُ جَلَّ وَعَلا : وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا سورة المائدة آية 38 ، فَأَمَرَ بِقَطْعِ السَّارِقِ إِِذَا مَا سَرَقَ ، ثُمَّ فَسَّرَتْهُ السُّنَّةُ بِأَنْ لا قَطَعَ عَلَى سَارِقِ الثَّمَرِ وَلا الْكَثَرِ ، وَأَنْ لا قَطَعَ إِِلا فِي رُبْعِ دِينَارٍ ، فَكَانَ الْمُرَادُ مِنَ الْخِطَابِ مِنَ الْكِتَابِ : فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا سورة المائدة آية 38 : إِِذَا سَرَقُ رُبْعُ دِينَارٍ ، وَمَا يَقُومُ مَقَامَهُ سِوَى الثَّمَرِ وَالْكَثَرِ .
سیدنا واسع بن حبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک لڑکے نے ایک باغ سے کھجور کا پودا چوری کر لیا یہ مقدمہ مروان کی خدمت میں پیش ہوا تو اس نے اس لڑکے کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تو سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ ” پھل اور کثر کی چوری پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ “ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کتاب میں خطاب کا حکم عمومی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ” چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی عورت کے ہاتھ کاٹ دو “ تو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے چور جب بھی چوری کرے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے، لیکن پھر سنت نے اس کی وضاحت کی ہے پھل اور کثر کی چوری پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ہاتھ صرف اس وقت کاٹا جائے گا جب ایک چوتھائی دینار کی قیمت والی چیز کو چوری کیا جائے گا۔ تو کتاب میں خطاب سے مراد یہ ہے: ان دونوں کا ہاتھ اس وقت کاٹو جب وہ ایک چوتھائی دینار قیمت والی چیز کو چوری کریں یا اس چیز کو چوری کریں جو اس کے قائم مقام ہو اور جو پھل اور کثر کے علاوہ ہو۔