کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: زنا اور اس کی حد کا بیان - ایک ایسی خبر کا بیان جو غیر ماہرِ فنِ حدیث کو پہلی بیان کردہ خبروں کے خلاف محسوس ہو سکتی ہے۔
حدیث نمبر: 4443
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَحْرِ بْنِ مُعَاذٍ الْبَزَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَخِي بَنِي رَقَاشٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ كَرْبٌ لِذَلِكَ ، وَتَرَبَّدَ لَهُ وَجْهُهُ ، فَأُنْزِلَ عَلَيْهِ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذُوا عَنِّي ، قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلا الثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ ، وَالْبِكْرُ بِالْبِكْرِ ، الثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ ثُمَّ رَجْمٌ بِالْحِجَارَةِ ، وَالْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ ثُمَّ نَفْيُ سَنَةٍ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذَا الْخَبَرُ دَالٌ عَلَى أَنَّ هَذَا الْحُكْمَ كَانَ مِنَ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا عَلَى لِسَانِ صَفِيَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَوَّلِ مَا أَنْزَلَ حُكْمَ الزَّانِيَيْنِ ، فَلَمَّا رُفِعَ إِِلَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الزِّنَى وَأَقَرَّ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ وَغَيْرُهُ بِهَا ، أَمَرَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجْمِهِمْ وَلَمْ يَجْلِدْهُمْ ، فَذَلِكَ مَا وَصَفْتُ عَلَى أَنَّ هَذَا آخِرُ الأَمْرَيْنِ مِنَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَفِيهِ نَسْخُ الأَمْرِ بِالْجَلْدِ لِلثَّيِّبَيْنِ ، وَالاقْتِصَارُ عَلَى رَجْمِهِمَا .
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشکل درپیش ہوتی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر ہو جاتا تھا ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھ سے (حکم) حاصل کر لو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے حکم بیان کر دیا ہے۔ شادی شدہ شخص کا شادی شدہ کے ساتھ زنا کرتا اور کنوارے کا کنواری کے ساتھ زنا کرنا۔ شادی شدہ شخص کے شادی شدہ کے ساتھ زنا کرنے کے نتیجے میں ایک سو کوڑے لگائے جائیں گے اور پھر پتھروں کے ذریعے سنگسار کر دیا جائے گا۔ اور کنوارے کے کنواری کے ساتھ زنا کرنے کی صورت میں ایک سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کر دیا جائے گا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے یہ حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جو اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ہے اور زنا کرنے والوں کے بارے میں یہ سب سے پہلا حکم ہے۔ یہی وجہ ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں زنا کا معاملہ پیش ہوا اور سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے زنا کا اقرار کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سنگسار کرنے کا حکم دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوڑے نہیں لگوائے۔ اس لیے میں نے جو چیز بیان کی ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دو طرح کے حکم منقول ہیں ان میں سے آخری چیز وہ ہے اور اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے شادی شدہ کو کوڑے مارنے کا حکم منسوخ ہے اور انہیں سنگسار کرنے پر اکتفاء کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحدود / حدیث: 4443
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م - مضى (4408). تنبيه!! رقم (4408) = (4425) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4426»