کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: زنا اور اس کی حد کا بیان - اس بات کا بیان کہ حاملہ عورت جب خود اپنے اوپر زنا کا اقرار کرے تو اس کے رجم میں اس وقت تک تاخیر کی جائے گی جب تک وہ بچہ پیدا نہ کرلے۔
حدیث نمبر: 4441
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، قَالا : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مِنْ جُهَيْنَةَ فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ . قَالَ : فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَلِيِّهَا ، فَقَالَ : " أَحْسِنْ إِِلَيْهَا حَتَّى تَضَعَ مَا فِي بَطْنِهَا ، فَإِِذَا وَضَعَتْ فَأْتِنِي بِهَا " . فَأَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهَا ، فَشُدَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَرُجِمَتْ ، ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتُصَلِّي عَلَيْهَا وَقَدْ زَنَتْ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ عَلَى سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ ، وَهَلْ وَجَدْتَ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ " .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جہینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے قابل حد جرم کا ارتکاب کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر حد جاری کریں۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ولی کو بلوایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو یہاں تک کہ یہ اپنے پیٹ میں موجود بچے کو جنم دے۔ جب یہ اسے جنم دیدے تو تم اسے میرے پاس لے آنا، پھر وہ شخص اس عورت کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے بارے میں حکم دیا کہ اس کے کپڑوں کو باندھ دیا جائے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اسے سنگسار کر دیا گیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کی نماز جنازہ ادا کی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا آپ اس کی نماز جنازہ ادا کرنے لگے ہیں جب کہ اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! اس نے ایسی توبہ کی ہے اسے اہل مدینہ سے تعلق رکھنے والے ستر افراد پر تقسیم کیا جائے تو ان سب لیے کافی ہو کیا تمہیں اس سے زیادہ افضل اور کوئی شخص ملتا ہے اس نے اپنی جان اللہ تعالیٰ کے لیے قربان کر دی ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحدود / حدیث: 4441
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (2333): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الصحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4424»