کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: زنا اور اس کی حد کا بیان - اس خبر کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک کے بارے میں کم عقلی اور لاعلمی کا گمان کیا اسی لیے آپ نے اُسے چار بار واپس کیا۔
حدیث نمبر: 4438
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِِنِّي أَصَبْتُ فَاحِشَةً . فَرَدَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِرَارًا ، قَالَ : فَسَأَلَ قَوْمَهُ : " أَبِهِ بَأْسٌ ؟ " فَقِيلَ : مَا بِهِ بَأْسٌ ، غَيْرَ أَنَّهُ أَتَى أَمْرًا يَرَى أَنَّهُ لا يُخْرِجُهُ مِنْهُ إِِلا أَنْ يُقَامَ الْحَدُّ عَلَيْهِ . قَالَ : فَأَمَرَنَا ، فَانْطَلَقْنَا بِهِ إِِلَى بَقِيعِ الْغَرْقَدِ ، قَالَ : فَلَمْ نَحْفُرْ لَهُ وَلَمْ نُوثِقْهُ ، فَرَمَيْنَاهُ بِخَزَفٍ وَعِظَامٍ وَجَنْدَلٍ ، قَالَ : فَاشْتَكَى فَسَعَى ، فَاشْتَدَدْنَا خَلْفَهُ ، فَأَتَى الْحَرَّةَ فَانْتَصَبَ لَنَا ، فَرَمَيْنَاهُ بِجَلامِيدِهَا حَتَّى سَكَنَ ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَشِيِّ خَطِيبًا ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَا بَعْدُ " مَا بَالَ أَقْوَامٍ إِِذَا غَزَوْنَا تَخَلَّفَ أَحَدُهُمْ فِي عِيَالِنَا لَهُ نَبِيبٌ كَنَبِيبِ التَّيْسِ ، أَمَا إِِنَّ عَلَيَّ أَنْ لا أُوتِيَ بِأَحَدٍ فَعَلَ ذَلِكَ إِِلا نَكَّلْتُ بِهِ " . قَالَ : وَلَمْ يَسُبَّهُ ، وَلَمْ يَسْتَغْفِرْ لَهُ .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی: میں نے زنا کا ارتکاب کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند مرتبہ انہیں واپس کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی قوم کے افراد سے دریافت کیا: کیا اسے کوئی بیماری ہے؟ عرض کی گئی اسے کوئی بیماری نہیں ہے البتہ اس کی یہ کیفیت ہے یہ سمجھتا ہے اس نے جو جرم کیا ہے اس کا کفارہ یہی ہو سکتا ہے، اس پر حد قائم کی جائے۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا، تو ہم اسے لے کر بقیع غرقد کی طرف آ گئے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ہم نے اس کے لیے کوئی گڑھا نہیں کھودا اسے باندھا نہیں۔ ہم نے اسے پتھروں، ہڈیوں اور جندل کے ذریعے مارنا شروع کیا۔ راوی کہتے ہیں: جب انہیں تکلیف ہوئی تو وہ بھاگے ہم بھی ان کے پیچھے بھاگے، یہاں تک کہ پتھریلی زمین کے پاس پہنچ کر وہ رک گئے۔ ہم انہیں پتھر مارتے رہے یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ شام کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا: امابعد! ” لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جب ہم کسی غزوے میں شرکت کے لیے جاتے ہیں تو ان میں سے کوئی ایک شخص ہمارے گھر والوں کے لیے پیچھے رہ جاتا ہے جو نر جانور کی طرح آواز نکال کر (عورت کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کرتا ہے) یہ بات میرے ذمے لازم ہے اس طرح کا کوئی بھی شخص میرے پاس لایا گیا تو میں اسے عبرت ناک سزا دوں گا۔ “ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو اس شخص کو برا کہا: اور نہ ہی اس کے لیے دعائے مغفرت کی۔