کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: زنا اور اس کی حد کا بیان - ماعز بن مالک کا وصف بیان کرنا جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں رجم کیا گیا۔
حدیث نمبر: 4436
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ يُحَدِّثُ أَنَّهُ ، شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُتِيَ بِرَجُلٍ أَشْعُرَ قَصِيرٍ ذِي عَضَلاتٍ أَقَرَّ بِالزِّنَى ، فَرَدَّهُ مَرَّتَيْنِ ، ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ . وَقَالَ : " كُلَّمَا نَفَرْنَا غَازِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، يَتَخَلَّفُ أَحَدُكُمْ لَهُ نَبِيبٌ كَنَبِيبِ التَّيْسِ ، يَمْنَحُ إِِحْدَاهُنَّ الْكُثَيْبَةَ ، أَمَا إِِنِّي لَنْ أُوتِيَ بِأَحَدٍ مِنْهُمْ إِِلا جَعَلْتُهُ نَكَالا " . وَرُبَّمَا قَالَ سِمَاكٌ : إِِلا نَكَّلْتُهُ . قَالَ سِمَاكٌ : فَذَكَرْتُهُ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، فَقَالَ : رَدَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ . قَالَ شُعْبَةُ : وَقَالَ الْحَكَمُ : يَنْبَغِي أَنْ يَرُدَّهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ . وَقَالَ حَمَّادٌ : مَرَّةً .
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ایک شخص آیا جس کے بال زیادہ تھے اس کا قد چھوٹا تھا اور جسم مضبوط تھا اس نے زنا کرنے کا اقرار کیا دو مرتبہ اسے واپس کر دیا گیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اسے سنگسار کر دیا گیا۔ راوی بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” ہم جب بھی اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے جاتے ہیں، تو کوئی ایک شخص پیچھے رہ جاتا ہے جو نر جانور کی طرح آواز نکالتا ہے (یعنی عورت کو بہلا پھسلا کر) یا کچھ دے کر اس کے ساتھ زنا کر لیتا ہے۔ اب اس طرح کا جو بھی شخص میرے پاس لایا گیا تو میں اسے عبرت کا نشان بنا دوں گا۔ “ سماک نامی راوی نے بعض اوقات ایک لفظ مختلف بیان کیا ہے۔ سماک نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے سعید بن جبیر کے سامنے یہ روایت نقل کی تو انہوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو چار مرتبہ واپس کیا تھا۔ شعبہ نامی راوی بیان کرتے ہیں، حکم نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے یہ بات مناسب ہے ایسے شخص کو چار مرتبہ واپس کیا جائے۔ جب کہ حماد نامی راوی نے یہ بات ذکر کی ہے اسے ایک مرتبہ واپس کیا جائے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحدود / حدیث: 4436
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (7/ 354 - 355): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4419»