کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: زنا اور اس کی حد کا بیان - کان اور پاؤں کے زنا کا بیان ان کاموں میں جو ان کے لیے حلال نہیں۔
حدیث نمبر: 4423
أَخْبَرَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ بِمِصْرَ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " عَلَى كُلِّ نَفْسِ ابْنِ آدَمَ كَتَبَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَى : الْعَيْنُ زِنَاؤُهَا النَّظَرُ ، وَالأُذُنُ زِنَاؤُهَا السَّمْعُ ، وَالْيَدُ زِنَاؤُهَا الْبَطْشُ ، وَالرِّجْلُ زِنَاؤُهَا الْمَشْيُ ، وَاللِّسَانُ زِنَاؤُهُ الْكَلامُ ، وَالْقَلْبُ يَهْوَى الشَّيْءَ ، وَيُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ الْفَرْجُ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” ہر انسان کے وجود میں زنا کا حصہ مقرر کر دیا گیا ہے آنکھ کا زنا دیکھنا ہے کان کا زنا سننا ہے ہاتھ کا زنا پکڑنا ہے پاؤں کا زنا چل کر جانا ہے زبان کا زنا کلام کرنا ہے اور دل کسی چیز کی خواہش کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ “
حدیث نمبر: 4424
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُمَارَةَ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَيُّمَا امْرَأَةٍ اسْتَعْطَرَتْ فَمَرَّتْ عَلَى قَوْمٍ لِيَجِدُوا رِيحَهَا فَهِيَ زَانِيَةٌ ، وَكُلُّ عَيْنٍ زَانِيَةٌ " .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جو بھی عورت عطر لگا کر لوگوں کے پاس سے گزرتی ہے تاکہ انہیں اس کی خوشبو آئے تو وہ عورت زنا کرنے والی ہے اور (اسے دیکھنے والی) ہر آنکھ زنا کرنے والی ہے۔ “