کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: زنا اور اس کی حد کا بیان - ذکر اس کیفیت کا کہ آنکھ اور زبان کا زنا ابن آدم پر کیسے ہوتا ہے
حدیث نمبر: 4420
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ يَعْنِي عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَشْبَهُ بِاللَّمَمِ مما قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَتَبَ اللَّهُ عَلَى ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَى ، أَدْرَكَ ذَلِكَ لا مَحَالَةَ : فَزِنَى الْعَيْنُ النَّظَرُ ، وَزِنَى اللِّسَانِ النُّطْقُ ، وَالنَّفْسُ تَتَمَنَّى ذَلِكَ وَتَشْتَهِي ، وَيُصَدِّقُ ذَلِكَ الْفَرْجُ أَوْ يُكَذِّبُهُ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی جو گناہ کے ساتھ اس سے زیادہ مشابہت رکھتی ہو، جس کے بارے میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بیان کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ ” اللہ تعالیٰ نے ابن آدم کے نصیب میں زنا کا حصہ لکھ دیا ہے جس تک وہ لامحالہ پہنچے گا تو آنکھ کا زنا دیکھنا ہے زبان کا زنا بولنا ہے اور نفس خواہش اور آرزو کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تردید کرتی ہے۔ “