کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: زنا اور اس کی حد کا بیان - ذکر اس بیان کا کہ انسان کا اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرنا سب سے بڑے گناہوں میں سے ہے
حدیث نمبر: 4416
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ ؟ قَالَ : " أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ " . قُلْتُ : ثُمَّ أَيُّ ؟ قَالَ : " أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مَخَافَةَ أَنْ يَأْكُلَ مَعَكَ " . قُلْتُ : ثُمَّ أَيُّ ؟ قَالَ : " أَنْ تَزْنِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ " . فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ وَلا يَزْنُونَ سورة الفرقان آية 68 .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کون سا گناہ زیادہ بڑا ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ تم کسی کو اللہ کا شریک ٹھہراؤ حالانکہ اس (اللہ تعالیٰ) نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ میں نے عرض کی: پھر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تم اپنی اولاد کو اس خوف سے قتل کر دو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گی۔ میں نے دریافت کیا: پھر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرو۔ (راوی بیان کرتے ہیں) تو اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کی تصدیق میں یہ آیت نازل کی۔ ” اور وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ہمراہ کسی دوسرے کی عبادت نہیں کرتے اور وہ کسی ایسی جان کو قتل نہیں کرتے جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہو، البتہ حق کا معاملہ مختلف ہے اور وہ زنا نہیں کرتے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحدود / حدیث: 4416
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4399»