کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: زنا اور اس کی حد کا بیان - ذکر اس بیان کا کہ انسان پر واجب ہے کہ وہ اس سے اجتناب کرے جس سے اس کے خالق نے منع کیا، خاص طور پر شرمگاہ کی حفاظت، بالخصوص قریبی رشتوں سے
حدیث نمبر: 4414
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ الذَّنْبِ عِنْدَ اللَّهِ أَكْبَرُ ؟ قَالَ : " أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ " قَالَ : ثُمَّ أَيُّ ؟ قَالَ : " أَنْ تَزْنِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ " . فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَهَا : وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ وَلا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا سورة الفرقان آية 68 .
- سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تم کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دو حالانکہ اس (اللہ تعالیٰ) نے تمہیں پیدا کیا ہے (سائل نے) دریافت کیا: پھر کون سا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرو۔ (راوی بیان کرتے ہیں) تو اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق میں یہ آیت نازل کی: ” اور وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے ہمراہ کسی دوسرے کی عبادت نہیں کرتے اور کسی ایسے فرد کو قتل نہیں کرتے (جس کے قتل کو) اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہو البتہ حق کا معاملہ مختلف ہے اور وہ زنا نہیں کرتے جو ایسا کرتا ہے وہ گناہ تک پہنچ جاتا ہے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحدود / حدیث: 4414
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (2337)، «صحيح أبي داود» (2000): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4397»