کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: زنا اور اس کی حد کا بیان - ذکر اس خبر کا جو چور اور زانی پر جہنم واجب ہونے کو واضح کرتا ہے
حدیث نمبر: 4411
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَدْرُونَ مَنِ الْمُفْلِسُ ؟ " قَالُوا : الْمُفْلِسُ فِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ لا دِرْهَمَ لَهُ ، وَلا مَتَاعَ لَهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُفْلِسُ مِنْ أُمَّتِي مَنْ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلاتِهِ وَصِيَامِهِ وَزَكَاتِهِ ، وَقَدْ شَتَمَ هَذَا ، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا ، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا ، وَضَرَبَ هَذَا ، فَيَقْعُدُ فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ ، فَإِِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُعْطِيَ مَا عَلَيْهِ ، أَخَذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ ، ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو، ” مفلس “ کون ہوتا ہے لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمارے درمیان وہ شخص مفلس شمار ہوتا ہے جس کے پاس درہم نہ ہوں اور ساز و سامان نہ ہو تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت میں سے مفلس وہ شخص ہو گا، جو قیامت کے دن نماز روزہ اور زکوۃ لے کر آئے گا اور اس نے (دنیا میں) کسی کو گالی دی ہو گی، کسی کا مال کھایا ہو گا، کسی کا خون بہایا ہو گا، کسی کو مارا پیٹا ہو گا تو اس شخص کو بٹھایا جائے گا اور اس کی کچھ نیکیاں کسی کو دے دی جائیں گئی، کچھ نیکیاں کسی (دوسرے) کو دے دی جائیں گی یہاں تک کہ جب اس کے ذمے لازم ادائیگی سے پہلے ہی اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو دوسروں کے گناہ اس کے ذمہ ڈال دیئے جائیں گے اور پھر اس شخص کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ “